ہار مان لینا
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۷
ہار مان لینا
امریکہ کے ایک شخص نے ۱۸۳۱ء میں تجارت کی۔ اس میں وہ ناکام ہوگیا۔ ۱۸۳۲ء میں اس نے ملکی سیاست میں حصہ لیا مگر وہاں بھی اس نے شکست کھائی۔ ۱۸۳۳ء میں اس نے دوبارہ تجارت کی۔ اس بار بھی وہ اپنی تجارت کو چلانے میں ناکام رہا۔ ۱۸۳۵ء میں اس کے اعصاب جواب دے گئے۔ ۱۸۳۶ء میں وہ دوبارہ سیاست میں داخل ہوا۔ اس کو امید تھی کہ اس بار اس کی پارٹی اس کو کانگریس کی ممبری کے لئے نامزد کردے گی۔ مگر آخر وقت میں اس کی امید پوری نہ ہوسکی۔ اس کا نام پارٹی کے امیدواروں کی فہرست میں نہیں آیا۔ ۱۸۵۵ء میں اس کو پہلی بار موقع ملا کہ وہ سینٹ کے لئے کھڑا ہو۔ مگر وہ الیکشن میں ہار گیا۔ ۱۸۵۸ء میں وہ دوبارہ سینٹ کے الیکشن میں کھڑا ہوا اور دوبارہ شکست کھائی۔
یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (۶۵۔ ۱۸۰۹) تھا جو ۱۸۶۰ء میں امریکہ کا صدر منتخب ہوا۔ اس نے امریکہ کی تعمیر میں اتنا بڑا کام کیا کہ آج وہ نئے امریکہ کا معمار سمجھا جاتا ہے۔
ابراہام لنکن کو امریکہ کی قومی اور سیاسی تاریخ میں اتنا معزز نام کیسے ملا اور وہ اس اونچے مقام تک کس طرح پہنچا، ڈاکٹرنارمن ونسنٹ پیل کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ ـ وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے :
He knew how to accept defeat
حقیقت پسندی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے اور ہار ماننا حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین قسم۔ ہار ماننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کرلیں کہ آپ دوسروں سے آگے نہیں ہیں بلکہ دوسروں سے پیچھے ہیں۔ بالفاظِ دیگر، آپ جہاں فی الواقع ہیں وہیں نظری طور پر اپنے آپ کو کھڑا مان لیں۔ ہار ماننے کے بعد آدمی فوراً اس حیثیت میں ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا سفر شروع کرسکے۔ کیونکہ سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ فی الواقع ہیں نہ کہ وہاں سے جہاں ابھی آپ پہنچے ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues