زکواۃ کے بارے میں
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۸
زکواۃ کے بارے میں
قرآن میں زکوٰۃ کی آٹھ مدوں کا ذکر ہے۔ جن میں سے ایک مد فی سبیل اللہ (التوبہ) ہے۔ یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرنا۔ قرآن کا لفظ اگرچہ عام (اللہ کے راستے میں) ہے۔ تاہم جمہور فقہائے انس مد کو جنگ کے لئے خاص کیا ہے۔ ان کا متفقہ مسلک یہ ہے کہ زکوٰۃ کی یہ مد ان افراد کے لئے ہے جو ذاتی طور پر بطور خود کسی اسلامی جنگ میں حصہ لیں۔ اور حکومت کی طرف سے ان کی تنخواہ مقرر نہ ہو۔ (جمہور العلماء علی ان المراد به هذا الغزو۔ وان سهم (سبیل اللہ) يعطی للمتطوعین من الغزاۃ الذين ليس لهم مرتب من الدولة ، فقہ السنة ، المجلد الاول صفحه ۳۹۳)
اگر مسئلہ کی اس صورت کو تسلیم کر لیا جائے تو گویا فی سبیل اللہ کی ہدایت اب عملاً منسوخ ہو چکی ہے۔ کیونکہ مذکورہ بالا طرز پر جنگ میں شریک ہونا صرف قدیم زمانہ میں ممکن تھا۔ اب جدید حالات میں اس قسم کی شرکت کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ موجودہ زمانہ کی جنگ اتنی زیادہ پیچیدہ اور ٹیکنکل ہوتی ہے کہ صرف باقاعدہ طور پر تربیت یافتہ لوگ ہی اس میں حقیقی حصہ لے سکتے ہیں۔ غیر تربیت یافتہ لوگوں کو جنگ میں حصہ لینے کا موقع دینا موجودہ زمانہ میں خود اپنے ہاتھوں اپنی شکست کا انتظام کرنا ہے۔ بالفاظ دیگر، اب صرف حکومت کے مشاہرہ یاب افراد ہی جنگ میں حصے لے سکتے ہیں۔ دراصل فی سبیل اللہ ایک عام لفظ ہے۔ اس میں وہ تمام کام شامل ہیں جو اللہ کے راستے میں کئے جائیں۔ خاص طور پر اس سے وہ کام مراد ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ اسلام میں اصل چیز حرب“ نہیں بلکہ اصل چیز “ دعوت “ ہے۔ اسلامی عمل اصلاً دعوت سے شروع ہوتا ہے اور حرب صرف اس وقت پیش آتی ہے جب کہ فریق ثانی کی طرف سے اس کا آغاز کر کے داعیان اسلام کو دفاعی مقابلہ کے لئے مجبور کر دیا گیا ہو : ومن اھم ماینفق في سبيل اللہ فی زماننا | فی سبیل اللہ میں خرچ کی سب سے اہم مد موجودہ هذا اعداد الدعاة الى الاسلام زمانہ یہ ہے : اسلام کے داعی تیار کرنا اور و ارس لهم الی بلاد الكفار من قبل | اسلامی تنظیموں کی طرف سے ان کو غیر مسلمین کے جمعيات منظمة تمدهم بالمال الكافي | ملکوں میں بھیجنا جو کافی مال سے ان داعیوں كما يفعله الكفار فی نشر دينهم۔ | کی مدد کریں۔ جس طرح دوسرے مذاہب والے رشيد رضا، تفسير المنار | اپنے دین کو پھیلانے کے لئے کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues