پاگل پن
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۹
پاگل پن
ایک لطیفہ ہے کہ کسی وکیل صاحب نے قانون کی پریکٹس میں کافی پیسہ کمایا تھا۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت نامہ لکھوایا۔ اپنی وصیت میں انہوں نے کہا تھا کہ میری ساری دولت اور جائیداد میرے مرنے کے بعد پاگل لوگوں میں تقسیم کردی جائے۔ کسی نے اس کار خیر کی وجہ پوچھی تو وکیل صاحب نے جواب دیا:
میرے پاس جو کچھ ہے وہ پاگلوں ہی سے تو مجھے ملا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قانون کا کاروبار پاگل انسانوں کے ذریعہ دنیا میں قائم ہے۔ آدمی انتقام کے جوش میں آکر کسی کو قتل کر دیتا ہے۔ کوئی شخص کسی کی جائیداد ہڑپ کر لیتا ہے کوئی حسد اور بغض کا شکار ہو کر کسی کو پریشان کرنا چاہتا ہے اور اپنے آپ کو بے بس پا کر اس کو عدالت کے شکنجہ میں الجھانے کے لئے اس کے اوپر جھوٹے مقدمے قائم کرتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعہ وکیلوں کی تجارت قائم ہے۔
اس قسم کے لوگ اگرچہ اپنے کو عاقل اور ہوشیار سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بدترین قسم کے پاگل ہیں۔ عام پاگل صرف اپنے لئے پاگل ہوتے ہیں۔ مگر یہ ہوشیار پاگل اپنے ساتھ ساری انسانیت کے لئے پاگل ہیں۔ ان کی آخری سزا اگرچہ خدا کے یہاں ملے گی۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں بھی بالآخر وہ عبرت ناک انجام کا شکار ہوتے ہیں۔ جس انسان کو انہوں نے اپنے پاگل پن کا شکار بنانا چاہا تھا، وہ تو خدا کی مدد سے محفوظ رہتا ہے ۔ مگر یہ لوگ خود اسی گڑھے میں داخل کر دیئے جاتے ہیں جہاں وہ دوسروں کو داخل کرنا چاہتے تھے۔
ہر آدمی جو کچھ کرتا ہے اپنے فائدہ کے لئے کرتا ہے۔ اپنا فائدہ انسان کا سب سے بڑا معبود ہے۔ آدمی اگر معتدل حالت میں ہو تو وہ کبھی جان بوجھ کر ایسی کاروائی نہیں کریگا، جو اس کو خود اپنے نقصان کی طرف لے جانے والی ہو۔ مگر غصہ اور انتقام وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو اندھا کر دیتی ہیں۔ وہ دوسرے کی ضد میں ایسی کاروائیاں کرنے لگتا ہے جس کا نقصان بالآخر خود اسی کو اٹھانا پڑے۔ ایسی ہر کاروائی یقینی طور پر پاگل پن ہے۔ معروف پاگل اگر طبی پاگل ہوتے ہیں تو ایسے لوگ نفسیاتی پاگل ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues