Al-Risala · June 1983 · page 10

زبان درازی

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰

زبان درازی

سقراط کا قول ہے ۔ اگر تم اتنے زبان دراز ہو کہ تمہاری زبان درازی کے مقابلہ میں کوئی تم سے جیت نہ سکے تو تم کبھی غریبوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتے۔

بظاہر یہ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے کہ زبان درازی اور غریبوں کے ساتھ ہمدردی سے کیا تعلق ۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو ان میں بہت گہرا تعلق ہے۔ غریب کے ساتھ ہمدردی وہی شخص کر سکتا ہے جو حق کا اعتراف کرنا جانتا ہو، خواہ اس حق کا تعلق ایک غریب آدمی سے کیوں نہ ہو۔ ایک واقعہ سے اس کی بخوبی وضاحت ہو جائے گی۔ ایک زمیندار نے اپنا آم کا باغ کسی باغبان کے ہاتھ فروخت کیا، جب درختوں میں پھل لگے تو آندھی آئی ۔ اس آندھی میں بہت سے پھل گر گئے ۔ باغبان کو اندیشہ ہوا کہ وہ پھلوں کی فروخت سے پوری قیمت حاصل نہ کر سکے گا اور اس کو نقصان ہوگا۔ اس نے ٹوٹے ہوئے آم ایک ٹوکری میں رکھے اور ان کو لے کر زمیندار کے پاس گیا۔ اور کہا کہ دیکھئے آندھی کی وجہ سے کافی پھل گر گئے ہیں اور ہم کو نقصان کا اندیشہ ہے اس لئے آپ باغ کی قیمت میں کچھ کمی کردیں۔

زمیندار نے یہ سنا تو بگڑ کر کہا جب تم نے ہمارا باغ خریدا تھا اس وقت تم کو یہ معلوم نہ تھا کہ باغ کے گرد کوئی ایسی اونچی دیوار کھڑی ہوئی نہیں ہے جو آندھی اور باغ کے درمیان روک بن سکے ۔ غریب باغبان مایوس ہو کر چلا گیا ۔

زمیندار کے ایک دوست اس وقت زمیندار کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اور زمیندار اور باغبان کی پوری بات سن رہے تھے ۔ جب باغبان چلا گیا تو انہوں نے زمیندار سے کہا ، تم بہت سنگدل معلوم ہوتے ہو، غریب آدمی پر رحم کرنا نہیں جانتے ۔ زمیندار صاحب نے یہ سن کر کہا۔ آپ جیسے تعلیم یافتہ لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو رزق دیتا ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ رزق دینے والا خدا ہے ، وہ بہر حال ہر ایک کو اس کا رزق پہنچاتا ہے ۔

طاقتور کے مقابلہ میں آدمی زیادہ بول نہیں پاتا ۔ مگر جب کمزور سے معاملہ ہو تو وہ خوب زبان درازی دکھاتا ہے ۔ اس کی یہ زبان درازی اس کو یہ موقع نہیں دیتی کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ معاملہ کو سمجھے اور حق کو مان کر اس کے مطابق وہ کرے جو اسے کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page