Al-Risala · June 1983 · page 11

زندگی کی سڑک

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۱

زندگی کی سڑک

سڑکوں میں چوراہے ہوتے ہیں ۔ یعنی ایسے مقامات جہاں پورب سے پچھم جانے والی سڑک پر ان مسافروں کے لئے راستہ جو اتر سے دکھن یا دکھن سے اتر جارہے ہوں ۔

ٹریفک قانون کے تحت یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک طرف کی سڑک بند کرکے دوسری طرف کی سڑک کھول دی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لئے علامتی طور پر ہر اسگنل اور لال سگنل استعمال کیا جاتا ہے ۔ ایک گاڑی چلتے چلتے چورا ہہ پر پہنچتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کے سامنے لال سگنل روشن ہوگیا ہے تو وہ وہیں رک جاتی ہے تاکہ دوسری سڑک سے چلنے والی سواریوں کو گزرنے کا موقع دیدے۔ جب دوسری سڑک کی سواریاں نکل جاتی ہیں تو لال سگنل کی جگہ ہرا سگنل روشن ہوجاتا ہے ۔ اب آپ کی سواری کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ چوراہ ہ کو پار کر کے آگے بڑھے اور اپنا سفر جاری رکھے۔

چوراہ ہ کا یہ قانون زندگی کا قانون بھی ہے ۔ زندگی کی سڑک کوئی خالی سڑک نہیں جس پر آپ اپنی مرضی کے مطابق صرف اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں ۔ یہاں دوسرے بھی بہت سے لوگ ہیں اور وہ بھی اپنا اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے اندر یہ وسعت اور لچک پیدا کرے کہ وہ یہاں خود راستہ لینے کے ساتھ دوسروں کو بھی راستہ دے ۔ جو لوگ اپنے اندر یہ حکمت پیدا نہ کریں ان کا انجام وہی ہوگا جو ایسے چوراہ ہ کا ، جہاں کوئی سوار اپنی سواری کو نہ روکے ۔ ہر ایک بس اندھادھند اپنی سواری دوڑاتا رہے ۔

یاد رکھئے ، زندگی کی شاہراہ پر آپ ہی اکیلے نہیں ہیں۔ یہاں بہت سے دوسرے چلنے والے بھی ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ زندگی کی شاہراہ پر آگے بڑھیں تو آپ کو دوسروں کے لئے بھی گزرنے کا موقع دینا ہوگا۔ سڑک کے کسی حصہ پر اگر آپ اپنی گاڑی کو دوڑانے کا موقع پا رہے ہیں تو سڑک کے کسی دوسرے حصہ پر آپ کو اپنی گاڑی روکنی بھی ہوگی تاکہ دوسری سواریاں ٹکرائے بغیر گزرنے کا موقع پاسکیں۔

اپنا حق لینے کے لئے دوسروں کا حق دینا پڑتا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ دوسروں کو ان کا حق دے بغیر اپنا حق پالیں تو موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ II

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page