ایمان میں اضافہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲
ایمان میں اضافہ
ایک سائنس داں نے کہا، " فطرت کا مطالعہ میرا مذہب ہے۔ جس دن میں فطرت کی کوئی نئی چیز نہیں دریافت کرتا، میں سمجھتا ہوں کہ وہ دن میں نے ضائع کر دیا " یہ اس انسان کا حال ہے جو مخلوقات میں جیتا ہے ۔ پھر اس انسان کا حال اس سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے جو خالق میں جیتا ہو۔ جس طرح سائنس داں ہر روز مخلوقات میں کوئی نئی چیز دریافت کرتا ہے ، اسی طرح مومن کو ہر روز خالق کی نسبت سے کوئی ایسی ہی چیز پانا چاہئے جو اس کے ایمان میں اضافہ کرنے والا ہو۔ مومن جس روز کوئی نئی چیز نہ پائے ، وہ دن گویا اس نے ضائع کر دیا ، اس دن گویا خدا سے اس کا ربط قائم نہیں ہوا۔ ایمان خدا کی دریافت کا دوسرا نام ہے ۔ خدا ایک مسلسل حقیقت ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ اس لئے اس کی دریافت بھی ایک مسلسل واقعہ ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ جو ایمان اضافہ پذیر نہ ہو وہ غفلت کی ایک قسم ہے ، اس کو حقیقی معنوں میں ایمان نہیں کہا جا سکتا۔
جس کا ذہن خدا کی طرف متوجہ ہو، جس کا دل خدا کی طرف لگا ہوا ہو اس کو بار بار خدا کی نئی تجلیات کا ادراک ہوتا ہے ۔ وہ بار بار خدا کی نئی جھلک پا تا رہتا ہے ۔ جس طرح خدا کے کمالات کہیں ختم نہیں ہوتے اسی طرح مومن کا سفر معرفت بھی کسی حد پر ختم نہیں ہوتا۔
یہ نئی معرفت کبھی ایسی ربانی کیفیات کی صورت میں امنڈتی ہے جس سے وہ اس سے پہلے کبھی آشنا نہیں ہوا تھا۔ کبھی ایسے دعائیہ الفاظ کے روپ میں بے اختیار اس کی زبان پر آجاتی ہے جو اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ کبھی وہ خدا کی حکمتوں میں سے کسی ایسی حکمت کا راز پا لیتا ہے جو اس سے پہلے اس پر نہیں کھلے تھے۔ کبھی وہ خدا کی قربت کا ایسا تجربہ کرتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کے علم میں نہیں آئے تھے۔ کبھی اس پر ایسے نئے معانی کا القاء ہوتا ہے جس کے اظہار کے لئے اس کے تمام معلوم الفاظ عاجز نظر آنے لگتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues