قرآن کا اہم ترین حصہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
قرآن کا اہم ترین حصہ
پروفیسر فلپ ہٹی نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں قرآن کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن کے سب سے زیادہ پر اثر حصے وہ یہیں جو آخرت کے معاملات سے بحث کرتے ہیں۔ (صفحہ ۱۳۰)
The most impressive parts of the Koran deal with eschatology جن غیر مسلموں نے قرآن کو پڑھا ہے وہ عام طور پر اسی قسم کے تاثر کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کو سب سے کم جو چیز قرآن میں ملتی ہے وہ ہی آخرت ہے۔ مسلمان ہر چیز قرآن میں پا لیتے ہیں مگر اسی چیز کو نہیں پاتے جو قرآن میں سب سے زیادہ بلکہ ہر ہر صفحہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مسلم عام طور پر خالی الذہن ہوتا ہے۔ وہ صرف یہ جاننے کے لئے پڑھتا ہے کہ قرآن میں جو کچھ لکھا ہے وہ کیا ہے۔ چنانچہ جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ اس کو کسی کمی بیشی کے بغیر پا لیتا ہے۔ مگر مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ مسلمان زیادہ تردد و جذبے کے تحت قرآن پڑھتے ہیں۔ یا ثواب کے لئے یا فخر کے لئے ۔
کچھ لوگ قرآن کو سب سے زیادہ مقدس کتاب سمجھ کر بس اس کی ”تلاوت کر لیتے ہیں تاکہ اس کا ثواب انھیں مل جائے۔ اس کے بعد کچھ لوگ وہ ہیں جو قرآن کو اپنا ایک قومی فخر سمجھتے ہیں اور فخر کی نفسیات لے کر قرآن کو پڑھتے ہیں۔ ایسے لوگ قدرتی طور پر قرآن کو زمانہ کی روشنی میں دیکھنے لگتے ہیں۔ زمانہ میں جن چیزوں کو اہمیت حاصل ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پر فخر کتاب ضرور اس کا مجموعہ ہوگی ۔ اب جس کے ذہن میں سوشلزم سب سے بڑی چیز ہے وہ قرآن میں سوشلزم کو پڑھنے لگتا ہے۔ جس کے ذہن میں سائنس کی اہمیت ہے وہ قرآن کی عظمت کو سائنس کی صورت میں پا لیتا ہے۔ اسی طرح جس کے ذہن میں سیاست اور قانون کی اہمیت ہے ۔ وہ قرآن میں جو سب سے اہم بات دریافت کرتا ہے وہ سیاست اور قانون ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن آخرت کی کتاب ہے۔ قرآن اس لئے آیا ہے کہ وہ آنے والے دن سے پہلے آنے والے دن کے بارہ میں لوگوں کو خبردار کر دے۔ قرآن مادی صور سے پہلے لفظی صور ہے۔ جو لوگ لفظی صور سے جاگ جائیں وہ کامیاب ہیں۔ جو لوگ مادی صور سے جاگیں گے ان کے لئے ان کا جاگنا کچھ کام نہ آئے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues