Al-Risala · June 1983 · page 14

قرآن کا اہم ترین حصہ

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴

دعوت الی اللہ

مصطفی محمد عمارۃ کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: جواہر البخاری و شرح القسطلانی۔ اس کتاب میں امام بخاری اور شیخ قسطلانی کی کتابوں سے ۸۰۰ سے زیادہ حدیثیں منتخب کرکے مختلف عنوانات کے تحت درج کی گئی ہیں۔ ضخیم کتاب میں ہر قسم کے عنوانات ہیں مگر "دعوت الی اللہ" یا اس کے ہم معنی کو ئی عنوان موجود نہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصنف کو دعوت و تبلیغ سے متعلق احادیث پہنچیں نہیں۔ انہوں نے جن حدیثوں کو پڑھا اور سنا ان میں یقیناً دعوت و تبلیغ والی حدیثیں موجود تھیں۔ مگر ذہن کی مخصوص ساخت کی وجہ سے وہ ان کے ذہن کا جز نہ بن سکیں۔

خود مصنف کی زیر نظر کتاب سے ثابت ہے کہ ان کو دعوت و تبلیغ کی احادیث پہنچی تھیں۔ مگر ان کے ذہن سے ان کا دعوتی مفہوم اوجھل رہ گیا۔ چنانچہ انہوں نے ان احادیث کو دعوت و تبلیغ کے خانہ میں درج نہیں کیا بلکہ کسی اور خانہ میں ان کو نقل کر دیا۔ کتاب کے صفحہ ۲۹۴ پر یہ حدیث ملتی ہے:

عن ابی موسی الاشعرى قال قال رسول الله | ابو موسی اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلى الله عليه وسلم، مثلی ومثل ما بعثنی الله | علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور اس چیز کی به كمثل رجل اتی قوماً فقال رأیت الجيش | مثال جس کو لے کر خدا نے مجھے بھیجا ہے اس بعينتي وانی انا النذیر العریان فالنجاء | آدمی کی سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہا النجاء، فاطاعته طائفة فاد لجوا علی مهلهم | کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دشمن کا لشکر فنجوا وكذبته طائفة فصبحهم الجيش | دیکھا ہے اور میں تم کو کھلا ڈرانے والا ہوں۔ پس فاجتاحهم - | بچو بچو۔ پھر ایک گروہ نے اس کی بات مانی اور رات کو سویرے چل پڑا اور وہ بچ گیا۔ دوسرے گروہ نے نہ مانا چنانچہ صبح کو دشمن کا لشکر اس پر ٹوٹ پڑا اور اس کو ہلاک کر ڈالا۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تو اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ آپ لوگوں کے سامنے ”نذیر عریان بن جائیں اور ان کو قیامت کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page