نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰
تذکیر القرآن
ان کے اوپر وہ سزا نازل فرما جو تیرے قانون کے تحت ایسے سرکشوں کے لئے مقدر ہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر کی بد دعا خود خدا کے فیصلے کا اعلان ہوتا ہے جو نمائندہ خدا کی زبان سے جاری کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہو گئی ۔ تاہم جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے ، حضرت موسیٰ کی دعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان ہم سال کا فاصلہ ہے۔ (تفسیر النسفی) - اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی لمبی مدت تک یہ صورت حال باقی رہی کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے ، اور دوسری طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کی شان و شوکت بدستور ملک میں قائم تھی۔ ایسی حالت میں آدمی اگر خدا کی اس سنت سے بے خبر ہو کہ وہ سرکشوں کو مہلت دیتا ہے تو وہ جلد بازی میں اصل کام چھوڑ دے گا اور مایوسی اور بددلی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدُوًّا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿ه﴾ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿﴾ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ ﴿﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرا دیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا پیچھا کیا۔ سرکشی اور زیادتی کی غرض سے ۔ یہاں تک کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں اس کے فرمانبرداروں میں ہوں ۔ کیا اب ، اور اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں ۹۲ - ۹ مصر میں حضرت موسیٰ کا مشن دو طرفہ تھا ۔ ایک ، فرعون کو توحید اور آخرت کی طرف بلانا ۔ دوسرے ، بنی اسرائیل کو مصر سے باہر صحرائی ماحول میں لے جانا اور وہاں ان کی تربیت کرنا۔ جب فرعون پر دعوت حق کی تکمیل ہو چکی تو اللہ کے حکم سے وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے۔ صحرائے سینا پہنچنے کے لئے انہیں دریا کو پار کرنا تھا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے پانی پر اپنا عصا مارا۔ پانی بیچ سے پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہوگیا،
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues