نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۱
اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل اس راستے سے با آسانی پار ہوگئے۔
فرعون اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان ایک خشک راستہ سے گزر رہے ہیں۔ دریا کے وسیع پاٹ نے پھٹ کر حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیا تھا۔ یہ واقعہ دراصل خدا کی ایک نشانی تھا۔ فرعون کو اس سے یہ سبق لینا چاہئے تھا کہ موسیٰ حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے۔ مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو خدائی واقعہ سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا۔ اپنے اور موسیٰ کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر آیا ، حالانکہ وہاں خود خدا کھڑا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس واقعہ میں فرعون کے لئے اطاعت اور انابت کا پیغام تھا وہ اس کے لئے صرف سرکشی میں اضافہ کا سبب بن گیا ۔ اس نے ”دریا“ کو دیکھا مگر ”خدا“ کو نہیں دیکھا ۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے دریا کو پار کیا ہے اسی طرح وہ بھی دریا کو پار کر سکتا ہے۔ اپنے اس ذہن کے ساتھ فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوگئے۔ دریا کا پانی جو دو ٹکڑے ہوا تھا وہ موسیٰ اور ان ساتھیوں کے لئے ہوا تھا ، وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لئے نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ فرعون اور اس کا لشکر جب بیچ دریا میں پہنچے تو خدا کے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہو گیا۔ غرق ہوتے ہوئے فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اختیاری ایمان معتبر ہے نہ کہ وہ ایمان جب کہ آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوگیا ہو۔
خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے ، اس کا نمونہ دور رسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا ۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدا نے مستقل طور پر محفوظ کر دیئے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانہ میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جبکہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔ انہی میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعون موسی (رئیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرینِ اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھی ہوئی ہے۔ وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْتُهُم مَّنَ الطَّيِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّى جَاءَهُمُ الْعِلْمُ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues