نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۲
بنی اسرائیل قدیم زمانہ میں خدا کے دین کے حامل تھے ۔ ان کے ساتھ خدا نے یہ احسان کیا کہ ان کے دشمن (فرعون) سے ان کو نجات دی۔ اس کے بعد وہ ان کو سینا کی کھلی فضا میں لے گیا۔ وہاں ان کے لئے خصوصی انتظام کے تحت پانی اور رزق مہیا کیا۔ صحرائی تربیت کے ذریعہ ان کے اندر ایک نئی طاقتور نسل تیار کی ۔ اس نسل نے حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد ایک عظیم ملک فتح کیا اور شام اور اردن اور فلسطین جیسے سرسبز علاقہ میں بنی اسرائیل کی سلطنت قائم کی ۔ جو کئی سو سال تک باقی رہی ۔
اس احسان کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ بنی اسرائیل خدا کے فرماں بردار اور شکر گزار رہتے اور خدا کے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے۔ مگر واضح رہنمائی کے ہوتے ہوئے وہ راہ سے بے راہ ہو گئے ۔
ان کا راہ سے بے راہ ہو نا کیا تھا۔ یہ آپس کا اختلاف تھا۔ ان کے پاس خدا کا اتارا ہوا العلم موجود تھا جو واحد سچائی تھا۔ مگر انہوں نے اس علم کی تشریح و تاویل میں اختلاف کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ (تفسیر النسفی) کوئی امت جب تک خدا کے اتارے ہوئے دین (العلم) پر رہتی ہے ، اس میں اتفاق واتحاد رہتا ہے۔ مگر بعد کو ان کے درمیان اس علم کی تشریح میں اختلافات شروع ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک اختلافی رائے لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ دوسری اختلافی رائے لے کر ۔ ہر ایک اپنے اپنے مسلک کو برحق ثابت کرنے کے لئے بحث مباحثہ اور تقریر اور مناظرہ کا طوفان کھڑا کرتا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ اصل العلم کتابوں میں بند پڑا رہتا ہے اور سارا زور ان کی تاویلات و تشریحات میں صرف ہونے لگتا ہے۔ اس طرح بنیادی دینی تعلیمات (العلم) میں متحد الرائے ہونے کے باوجود لوگ ذیلی تعلیمات میں مشغول ہو کر مختلف الرائے ہو جاتے ہیں ۔
" اللہ قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا" بظاہر متعدی ہے مگر حقیقۃً وہ لازم کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت میں جب خدا ظاہر ہو گا تو ہر آدمی اپنے اختلاف کو بھول کر اسی بات کو مان لے گا جو واحد سچائی ہے۔ اگر وہ خدا سے ڈرتے تو آج ہی سب کے سب ایک رائے پر پہنچ جاتے۔ مگر خدا سے بے خوف ہو کر وہ الگ الگ راہوں میں بٹ گئے ہیں ۔ بے خوفی سے رایوں کا تعدد پیدا ہوتا ہے اور خوف سے رایوں کا اتحاد۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues