Al-Risala · June 1983 · page 23

نامعلوم مستقبل

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

تذکیر القرآن یونس ۱۰ فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَسْئَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ * وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَسِرِينَ * پس اگر تم کو اس چیز کے بارے میں شک ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تو ان لوگوں سے پوچھو لو جو تم سے پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ بیشک یہ تم پر حق آیا ہے تمہارے رب کی طرف سے ، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔ اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے ، اور نہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے ۹۴ - ۹۵ پیغمبر بے آمیز حق کو لیکر اٹھتا ہے ، اور بے آمیز حق کی دعوت کو قبول کرنا انسان کے لئے ہمیشہ سخت دشوار کام رہا ہے۔ لوگ عام طور پر ملاوٹی حق کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر حق کا لیبل لگا لیتے ہیں۔ ایسی حالت میں بے آمیز حق کی دعوت کو ماننا اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ داعی حق کو ماننے کے لئے اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے ، اور اپنے آپ کو چھوٹا کرنا بلاشبہ انسان کے لئے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ حق کی دعوت اٹھے اور لوگ جوق در جوق اس کی طرف دوڑنا شروع کر دیں۔ حق کا استقبال اس دنیا میں ہمیشہ اعراض اور مخالفت کی صورت میں کیا گیا ہے۔

داعی جب اپنے ماحول میں حق کی یہ بے وقعتی دیکھتا ہے تو کبھی کبھی اس پر یہ شبہ گزرتا ہے کہ میں غلطی پر تو نہیں ہوں۔ اس آیت میں داعی کو اسی نفسیات سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس شبہ کے غلط ہونے کا ایک نہایت واضح ثبوت یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں اور داعیوں کو بھی ہمیشہ اسی طرح کی صورت حال سے سابقہ پیش آیا۔ جو لوگ سابق انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں ان کو بخوبی معلوم ہے کہ اس دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک پیغمبر اٹھے اور فورا اس کو عوامی مقبولیت حاصل ہوجائے۔ پھر یہی بات اگر بعد کے زمانہ کے داعیوں کے ساتھ پیش آئے تو اس پر حیران و پریشان ہونے کی کیا ضرورت ۔

آدمی کی عقل اگر کسی چیز کی سچائی پر گواہی دے اور وہ صرف لوگوں کی بے توجہی یا مخالفت کی وجہ سے اس چیز کو چھوڑ دے تو یہ گویا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانا ہے۔ اللہ نشانیوں (دلائل) کے روپ میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے جس چیز کی صداقت پر دلیل قائم ہو جائے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page