Al-Risala · June 1983 · page 24

نامعلوم مستقبل

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴

تذکیر القرآن یونس ۱۰ اس کو ماننا آدمی کے اوپر خدا کا حق ہو جاتا ہے۔ پھر جو شخص خدا کا حق ادا نہ کرے اس کے حصہ میں نقصان اور ہلاکت کے سوا کیا آئے گا۔

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لایومنون، وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونسَ ۖ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ بے شک جن لوگوں پر تیرے رب کی بات پوری ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے ، خواہ ان کے پاس ساری نشانیاں آجائیں جب تک کہ وہ دردناک عذاب کو سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔ پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع دیتا ، یونس کی قوم کے سوا ۔ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک بہرہ مند ہونے کا موقع دیا ٩٦ - انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے۔ مگر کسی حق کو لینے کے لئے آدمی کو کچھ دینا پڑتا ہے اور اسی دینے کے لئے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اس کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے ۔ اپنے مفاد کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے ۔ یہ اندیشے آدمی کے لئے قبول حق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ جس چیز کا جواب اس کو قبولیت اور اعتراف سے دینا چاہئے تھا اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔

آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہیں کہ وہ ایک بار جس رخ پر چل پڑے اسی رخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے ۔ کیونکہ ہر آنے والے دن وہ اپنے فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس جائے۔

اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لئے ایسے الفاظ بولتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ان کا کیسا نظریاتی کیس ہے۔ مگر حقیقۃً وہ صرف ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے جو اپنی دنیوی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page