I just want to stay in Barbados forever
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۴۰
ممالک کے اہل علم بھی معقول تعداد میں مدعو تھے ۔ مجموعی طور پر تقريباً دودر جن ملکوں کی نمائندگی یہاں موجود تھی ۔ ڈیلی گیٹوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ تھی ۔ کانفرنس کی کاروائی ۳۱ مارچ ۱۹۸۳ء کی شام کو تلاوتِ قرآن سے شروع ہوئی ، پہلے دن افتتاحی کاروائی کے بعد صدر کا نفرنس کا خطاب ہوا۔ اگلے دنوں میں چھ مقالے پیش ہوئے ۔ ہر مقالہ اولاً پڑھا گیااوراس کے بعد اس کے بارہ میں سوال و جواب ہوا۔
پروگرام کے مطابق یہاں تین دن کے اندر چھ مقالے پیش کئے گئے۔ پہلا مقالہ میرا تھا جو ۲ اپریل ۸۳ کو پیش کیا گیا ۔ یہ علاقہ چونکہ مغربی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کی مادری زبان انگریزی ہے۔ کانفرنس کی تمام کاروائی انگریزی میں ہوئی۔ اس لئے یہ مقالہ میں نے انگریزی میں تیار کیا۔ مقالہ تقریباً ۴۵ منٹ کا تھا۔ مقالہ پڑھنے کے بعد لوگوں نے سوالات کئے، جن کے جوابات بھی میں نے انگریزی میں دئے۔
یہ میری زندگی میں غالباً پہلا موقع تھا کہ میں نے انگریزی میں مقالہ پیش کیا اور انگریزی زبان میں لوگوں کے سوالات کے جواب دئے ۔ امریکہ کے ایک نومسلم عبدالله مصطفی (قدیم نام اسٹیواسکلر کئی بار ہمارے دفتر میں آئے ہیں۔ میرے خیالات سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کے لئے دعوتی کام کا اصل میدان امریکہ ہے۔ دوسرے حضرات جو اس وقت وہاں اسلام کی نمائندگی کر رہے ہیں، ان کے مقابلہ میں آپ کا اندازِ دعوت مغرب کو زیادہ اپیل کرنے والا ہے ۔ میں نے کہا امریکہ میں کام انگریزی زبان میں کرنا ہوگا ۔ اور مجھ کو انگریزی بولنے کی زیادہ مشق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آخر مجھ سے آپ انگریزی میں بات کرتے ہیں اور میں اچھی طرح آپ کے نقطہ نظر کو سمجھ لیتا ہوں ۔ آپ کا اندازِ سائنٹفک ہوتا ہے اس لئے وہ جلد سمجھ میں آ جاتا ہے ۔ مجھے ابھی تک عبداللہ مصطفی صاحب کی بات پر زیادہ یقین نہیں تھا۔ مگر باربیڈوز کی کانفرنس کے تجربہ کے بعد اس بارے میں اب خدا کے فضل سے مجھے اعتماد ہو گیا ہے۔
میں نے اپنا مقالہ ۲ اپریل ۱۹۸۳ء کی صبح کی نشست میں پڑھا۔ مقالہ ختم کرنے کے فوراً بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی اعتراض کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر انہوں نے یہ کہا کہ یہ مقالہ ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف ایک بار پڑھ دیا جائے ۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues