Al-Risala · July 1983 · page 15

ارتقاءء

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۵

قدر عجیب ہوگا کہ بیل گاڑی کے بطن سے گھوڑا گاڑی نکلی ہے اور گھوڑا گاڑی کے بطن سے کار نے جنم لیا ہے۔ اور کار کے بطن سے ہوائی جہاز برآمد ہوا ہے۔

متحجرات (Fossils) کے مشاہدہ میں بھی مذکورہ بالا نظریہ کے لئے کوئی لازمی دلیل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں طبقاتی ترتیب کو اگر بلا بحث مان لیا جائے جب بھی اس سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ زمین کے اوپر حیوانات کی آباد کاری میں ایک ترتیب ہے۔ ایک قسم کے جانور ایک زمانہ میں وجود میں آئے ۔ دوسری قسم کے جانور دوسرے زمانہ میں۔ مثلاً جس زمانہ میں بندر تھا، انسان نہیں تھا۔ اسی طرح جس زمانہ میں مچھلیاں اور چھپکلیاں بنیں ، بندر نہیں پایا جاتا تھا۔ مگر یہاں یکساں قوت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے تخلیق کی ترتیب ثابت ہوتی ہے نہ کہ ارتقاء کی ترتیب ۔ ایک کے پیٹ سے دوسرا ، دوسرے کے پیٹ سے تیسرا نکلا، یہ ایک علیحدہ مفروضہ ہے ۔ مذکورہ مشاہدات میں اس کے لئے براہ راست دلیل موجود نہیں ہے ۔ متحجر ہڈیوں کے مطالعہ میں خواہ کتنی ہی احتیاط برتی جائے ، ان سے جو بات ثابت ہوگی ، وہ صرف یہی ہے کہ کس قسم کے جانور کی ہڈیاں کتنے ہزار سال سے زمین میں دفن ہیں ، نہ یہ کہ کون سا جانور کس کے بطن سے نکلا ہے۔

موجودہ ارتقائی تحقیقات سے اگر کوئی چیز ثابت ہوئی ہے تو صرف یہ کہ زمین پر جو مختلف قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں وہ سب بیک وقت وقتِ اول روز سے زمین پر موجود نہیں ہو گئے ہیں۔ بلکہ ان کی تخلیق میں ایک زمانی ترتیب ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ہر جاندار اپنے وقت میں مستقل طور پر پیدا کیا گیا یا ایسا ہوا کہ بطریق تناسل ایک جاندار کے بطن سے دوسرا جاندار نکلتا رہا۔

جب اس تک دوسرے مفروضہ کا تعلق ہے اس کے حق میں ابھی تک کوئی دلیل یا مشاہدہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف جاندار اول کی حد تک سائنسداں یہ مانتے ہیں کہ وہ پہلی بار مستقل طور پر وجود میں آیا۔ پھر جو مفروضہ پہلے جاندار کے لئے صحیح سمجھا گیا ہے وہی دوسرے جاندار کے لئے بھی کیوں صحیح نہیں ہوسکتا۔ جبکہ تحقیقات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پہلا جاندار (Amoeba) اپنے جسمانی نظام میں بعض اعتبار سے وہی تمام پیچیدگیاں رکھتا ہے جو آخری جاندار (انسان) میں پائی جاتی ہیں۔ اگر پہلے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا قدرت کے لئے ممکن تھا تو دوسرے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا اس کے لئے کیوں ناممکن ہوگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page