سبب یہاں ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۶
سبب یہاں ہے
ایک امریکی خاتون لندن گئیں۔ وہاں انہوں نے ایک اخبار فروش سے پوچھا کہ با ربیکن (Barbican) کا راستہ کون سا ہے۔ اخبار فروش نے بتایا تو تیزی سے اپنے الفاظ ادا کئے ۔ اس کے بعد خاتون نے کہا ” مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کو دوبارہ بتانے کی زحمت دے رہی ہوں ۔ میں سمجھ نہ سکی کہ آپ نے کیا کہا ۔ اخبار فروش نے جواب دیا : You know your trouble, love, you were listening with an American accent. محترمہ آپ کو اپنی مشکل معلوم ہے۔ آپ میری بات کو امریکی لہجہ میں سن رہی تھیں (آر۔ ڈی جولائی ۱۹۷۹)۔
اس طرح کی مشکل اکثر سننے والے اور سنانے والے کے درمیان پیش آتی ہے۔ ایک بار راجستھان کے ایک شہر میں میری تقریر ہوئی۔ تقریر کا موضوع سیرت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تھا۔ میں نے اپنی ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبق آموز واقعات اور آپ کے اقوال سادہ انداز میں بیان کئے۔
جب میں اجتماع گاہ سے باہر آیا تو ایک صاحب ملے۔ انہوں نے کہا ” آپ سیرت پر تو کچھ بولے نہیں “ مجھے یہ سن کر سخت حیرانی ہوئی۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں نے خالص سیرت پر تقریر کی ہے اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں کی ہے۔ مزید پوچھنے پر معلوم ہوا کہ موصوف کے نزدیک سیرت کی تقریر یہ تھی کہ معجزات اور فتوحات اور خرق عادت کی قسم کے واقعات بیان کئے جائیں۔ چونکہ میں نے سادہ واقعات اور نصیحت کی باتیں بیان کی تھیں اس لئے موصوف کو ایسا محسوس ہوا گویا میں نے سیرت پر تقریر ہی نہیں کی۔
یہاں بھی وہی بات ہے جو مذکورہ صدر واقعہ میں نظر آتی ہے۔ میں نے ہدایت اور نصیحت کی زبان میں بات کی ، جب کہ سننے والے بزرگ اس کو فتوحات اور کرامات کی زبان میں سن رہے تھے۔ ایسی صورت میں وہ میری بات کیوں کر سمجھتے۔
اسی طرح کہنے والا اگر ” اسلام “ کی زبان میں کہہ رہا ہو اور سننے والا اس کو ” قوم “ کی زبان میں سنے۔ کہنے والا ” دعوت “ کی زبان میں بولے اور سننے والے کے پاس اس کو سمجھنے کے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues