سبب یہاں ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۷
”سیاست“ کی زبان ہو۔ تو ایسی تمام صورتوں میں سنانے والے اور سننے والے کے درمیان ایک ایسا فصل (Gap) پیدا ہو جائے گا کہ بے حد واضح بات بھی سننے والے کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ انتہائی مدلل بات بھی سننے والے کو بے دلیل معلوم ہوگی ۔
یہی بات قرآن وحدیث کے بارہ میں بھی صحیح ہے۔ قرآن وحدیث کی بات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اس کو اسی ”زبان“ میں سنے جس زبان میں وہ کہی جارہی ہے۔ اگر وہ کسی دوسری زبان میں سننے لگے تو وہ سن کر بھی نہیں پائے گا۔ وہ پڑھ کر بھی اس کی حقیقت سے محروم رہے گا۔
ایک مثال لیجیے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو توحید کی طرف بلایا۔ مگر اس نے انکار کیا ۔ بالآخر حضرت موسیٰ کو خدا نے بتایا کہ فرعون مع اپنے لشکر کے تباہ کیا جانے والا ہے۔ تم اس کے انکار پر دل گرفتہ نہ ہو، البتہ اپنے مسلک پر صبر کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اس کو حق کی دعوت دیتے رہو۔ اس موقع پر ارشاد ہوا ہے : پس تم اور ہارون دونوں قائم رہو اور ان لوگوں کے طریقہ کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے (یونس (۸۹)
اس آیت کا جو مطلب مفسرین نے لیا ہے وہ صفوۃ التفاسیر کے الفاظ میں حسب ذیل ہے: ( ولا تتبعان سبيل الذين لا يعلمون ) بے علموں کے طریقہ کی پیروی نہ کرو، یعنی جلد اى لا تسلكا سبيل الجهلة في الاستعجال بازی اور خدا کے وعدہ کے بارہ میں بے یقینی میں او عدم الاطمئنان بوعد الله تعالی قال پڑ کر جاہلوں کے راستہ پر نہ چلو۔ طبری نے کہا ہے الطبری ، روی انه مکث بعد هذه الدعوة کہ روایت کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ اس دعا اربعين سنة ثم اغرق الله فرعون ۔ کے بعد چالیس سال تک مصر میں رہے ۔ پھر فرعون کو اللہ تعالیٰ نے غرق کر دیا۔
مذکورہ تفسیر کے مطابق آیت میں جس چیز کو بے علمی کہا گیا ہے وہ دعوة الى اللہ کے کام میں بے صبری اور جلد بازی ہے۔ مگر ایک مفسر قرآن نے اپنی مخصوص ذہنی ساخت کی بنا پر اس سے بالکل دوسرا مطلب نکال لیا۔ وہ اپنے تفسیری حاشیہ میں لکھتے ہیں :
”جو لوگ حقیقت کو نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتے وہ باطل کے مقابلہ میں حق کی کمزوری اور اقامت حق کے لئے سعی کرنے والوں کی مسلسل ناکامیاں اور ائمہ باطل کے ٹھاٹھ اور ان کی دنیوی سرفرازیاں دیکھ کر یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ کو یہی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues