سبب یہاں ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸
منظور رہے کہ اس کے باغی دنیا پر چھائے رہیں ۔ اور شاید حضرت حق خود ہی باطل کے مقابلہ میں حق کی تائید کرنا نہیں چاہتے۔ پھر وہ نادان لوگ آخر کار اپنی بد گمانیوں کی بنا پر یہ نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں کہ اقامت حق کی سعی لاحاصل ہے اور اب مناسب یہی ہے کہ اس ذراسی دینداری پر راضی ہو کر بیٹھ رہا جائے جس کی اجازت کفر و فسق کی سلطانی میں مل رہی ہو ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اور ان کے پیروؤں کو اسی غلطی سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد خداوندی کا منشا یہ ہے کہ صبر کے ساتھ انہیں ناموافق حالات میں کام کئے جاؤ ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی غلط فہمی ہو جائے جو ایسے حالات میں جاہلوں اور نادانوں کو عموماً لاحق ہو جایا کرتی ہے ۔ “ اس آیت میں دعوتی عمل کے ذیل میں بے صبری اور جلد بازی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ اور اس کمزوری کو بے علمی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ دعوتی عمل میں آدمی جب صبر اور حکمت کے خلاف کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ تخلیق کے بارہ میں خدا کے منصوبہ کو نہیں سمجھتا ۔ مگر مذکورہ بالا تفسیر میں عجیب و غریب طور پر یہ معنی نکال لئے گئے کہ کفر و فسق کی سلطانی قبول کر کے ذراسی دینداری پر راضی ہو جانا بے علمی ہے۔ اس تفسیر میں اور قرآن کی آیت میں صرف ”بے علمی “ کا لفظ مشترک ہے ، باقی سب کچھ مفسر کا اپنا اضافہ ہے ۔ مزید یہ کہ اس تفسیر نے دین کے پورے معاملے کو الٹ دیا ہے۔ وہ بڑی دینداری کو ” ذراسی دینداری “ قرار دے رہی ہے اور ذراسی دینداری کو بڑی دینداری۔ اس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کو زمانہ دعوت میں فرعون کے ملک میں جس دینداری کا موقع حاصل تھا وہ بس ” ذراسی دینداری “ تھی ۔ خدا نے کہا کہ اس ذراسی دینداری پر قانع نہ ہو جاؤ ورنہ تم جاہل ٹھہر وگے ۔
اب دیکھئے کہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو کیا چیز حاصل تھی ۔ ان کو ” سلطانی باطل “ کے باوجود یہ موقع حاصل تھا کہ وہ خدا کی عبادت کریں۔ وہ آخرت کی فکر کریں۔ وہ خدا سے ڈریں اور اس سے محبت کریں۔ وہ اپنے رب کی یادوں میں جئیں ۔ وہ دعوت و شہادت کا کام کریں اور خدا کے بندوں کو خدا کی طرف بلائیں۔ اخبات وانابت اور خشوع و تضرع سے لے کر بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی تک سب کچھ کرنے کا موقع انہیں ملا ہوا تھا اور وہ پوری طرح اس میں مشغول تھے۔ مگر یہ تمام اہم ترین چیزیں ، مذکورہ تشریح کی روشنی میں ” ذراسی دینداری “ بن کر رہ گئیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues