اسلام کا عطیہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۹
اسلام کا عطیہ
فرانس کے حکمراں نپولین بوناپارٹ نے سوئز میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مصر میں اپنی فوجیں داخل کر دی تھیں ۔ اور مصر کو فرانس کے قبضہ میں لے لیا تھا۔ ۱۷۹۸ء میں جب نپولین اسکندریہ میں داخل ہوا تو اس نے عربی زبان میں ایک منشور شائع کیا اور اس کو مصر کے تمام شہروں میں تقسیم کیا۔ اس منشور کا آغاز حسب ذیل الفاظ سے ہوتا تھا : بسم الله الرحمن الرحيم ، لا اله الا الله ، لا ولد له ولا شريك له في ملكه ۔ من طرف الفرنساوية المبنى على اساس الحرية والتسوية ۔ ۔ ۔
یعنی شروع اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی کوئی اولاد نہیں اور اس کے اقتدار میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ (یہ منشور) فرانس کی طرف سے جس کا نظام آزادی اور مساوات کی بنیاد پر قائم ہے ۔
الاسلام والفکر المعاصر للدکتور حلمی مرزوق ، دار النهضة العربیه، بیروت ۱۹۸۲، صفحه ۲۹ نپولین نے بظاہر اپنے اس منشور میں (سیاسی مصلحت کے تحت) اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کو ملانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے توحید کو اسلامی عطیہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے آزادی اور مساوات کو مغربی تہذیب کی دین قرار دیا ہے۔ گویا کہ دنیا کو اگر توحید اسلام کے ذریعہ ملی تو آزادی اور مساوات اس کو فرانس کے انقلاب کے ذریعہ حاصل ہوئی ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح توحید کی نعمت انسان کو عملاً اسلامی انقلاب کے بعد ملی، ٹھیک اسی طرح آزادی اور حریت کا تحفہ بھی اس کو اسلامی انقلاب کے نتیجہ میں ملا ہے ۔ غیر اللہ کو عظمت دینے کا نام شرک ہے اور اسی غیر خدائی عظمت کا یہ نتیجہ تھا کہ انسانی سماج آزادی اور حریت سے محروم تھا۔ شرک نے کچھ انسانوں کو پیدائشی طور پر برتر ٹھہر اکر دوسرے انسانوں کو ان کے مقابلہ میں پیدائشی طور پر کمتر ٹھہرا رکھا تھا۔ توحید نے ایک خدا کے مقابلہ میں سب کو یکساں حیثیت دیدی ۔ توحیدی انقلاب کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس نے بالآخر تمام انسانوں کو برابر ثابت کر کے انہیں اس ارتقائی مرحلہ تک پہنچا یا جس کو انسانی آزادی اور انسانی مساوات کہا جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues