Al-Risala · July 1983 · page 21

اسلام کا عطیہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۱

تذکیر القرآن ھود ۱۱ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ الرَّ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ اَلَّا تَعْبُدُوۡاۤ اِلَّا اللَّهَ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ ۙ وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوۡا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوۡۤا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهُ ؕ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّيْ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ ؕ اِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۚ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۝ سورة هود مكيه - ۱۱ رکوعاتہا ۱۰ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ال ر - یہ کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر ایک دانا اور خیر ہستی کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ میں تم کو اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں ۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم کو ایک مدت تک برتائے گا اچھا برتونا، اور ہر زیادہ کے مستحق کو اپنی طرف سے زیادہ عطا کرے گا۔ اور اگر تم پھر جاؤ تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۴ - ۱ قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے ۔ وہ ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنائے ۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے ۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے ۔ وہ اپنے آپ کو نابعد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہو جائے ۔

پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے ۔ قرآن میں اس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کر دیا گیا ہے ۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح رد عمل پیش کرے ۔ حسد ، گھمنڈ ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کر دے ۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے ۔ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں کے لئے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لئے خدا سے مدد

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page