Al-Risala · July 1983 · page 22

اسلام کا عطیہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۲

کی درخواست کرے ۔

آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتا ہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتا ہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کے ان منازل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے ۔

جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہو رہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہوں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیار کئے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی ۔ اور دوسرے شخص کی روح بیمار اور پھڑی سی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے ۔

الا انهُمْ يَشْتُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ الاحينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلُّ فِي كِتَبِ مُبِينٍ دیکھو، یہ لوگ اپنے سینوں کو لپیٹتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں ۔ خبردار، جب وہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ جانتا ہے है جو کچھ وہ چھپاتے ہیں और जो वह ظاہر کرتے ہیں۔ وہ دلوں کی بات تک جاننے والا ہے۔ اور زمین پر کوئی چلنے والا ایسا نہیں جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ اور وہ جانتا ہے جہاں کوئی ٹھہرتا ہے اور جہاں وہ سونپا جاتا ہے۔ سب کچھ ایک کھلی کتاب میں موجود ہے 6-5

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page