Al-Risala · July 1983 · page 28

اسلام کا عطیہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن

اس دین کا ساتھ دیا جس میں ان کے دنیوی مفادات محفوظ تھے ۔ اور اس دین کا ساتھ نہ دیا جس میں انھیں اپنے دنیوی مفادات چھنتے ہوئے نظر آتے تھے ۔ وہ بظاہر خواہ دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں ، اصل مقصود کے اعتبار سے وہ دنیا کے حصول میں مشغول ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوششوں کا آخرت میں کوئی نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔

انہوں نے اگرچہ اپنی سرگرمیوں کو دین کے نام سے موسوم کر رکھا تھا وہ اپنے قومی میلوں کے اوپر جشن دینی کا بورڈ لگاتے تھے ۔ وہ اپنی قومی لڑائیوں کو جہاد کا نام دیتے تھے ۔ وہ اپنی قبادی نمایش کو دینی کانفرنس کہتے تھے ، وہ اپنے سیاسی ہنگاموں کو خدائی کی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے ، وہ اپنے دنیوی جذبات کے تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے ۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیا کی زمین میں تھیں ، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں ، اس لئے قیامت کا زلزلہ انہیں بالکل برباد کر دے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ کتاب مُوْسَىٰ إِمَاماً وَرَحْمَةً ۚ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ فَلَاتَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ © بھلا ایک شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل پر ہے ، اس کے بعد اللہ کی طرف سے اس کے لئے ایک گواہ بھی آ گیا ، اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود تھی، ایسے ہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جماعتوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے وعدہ کی جگہ آگ ہے ۔ پس تم اس کے بارہ میں کسی شک میں نہ پڑو ۔ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے پیغمبر اسلام نے عرب میں توحید کی دعوت پیش کی تو کچھ لوگوں نے اس کو مانا اور زیادہ لوگ اس کے منکر ہو گئے یہی ہر زمانہ میں دعوت حق کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔

خدا نے ہر آدمی کو فطرت صحیح پر پیدا کیا ہے ۔ گرد و پیش کی دنیا میں ہر طرف ایسی نشانیاں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page