Gurinder Singh Mandla: Broke school rules
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
کے جاسکیں جو زیادہ مناسب اور زیادہ مؤثر طور پر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔ “ اس تقریر کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ جن خوبصورت الفاظ پر چالیس سال پہلے پوری قوم کی قوم دوڑ پڑی تھی وہ الفاظ حقیقتِ واقعہ سے کتنا زیادہ دور تھے ۔ لندن میں میری ملاقات بہت سے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں سے ہوئی ۔ سب سے زیادہ عجیب بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ کہ آزاد اور مدنی کے سیکولر ہندوستان اور اقبال اور جناح کے اسلامی پاکستان سے زیادہ یہ لوگ انگریزوں کے لندن میں اپنے آپ کو محفوظ اور کامیاب سمجھتے ہیں ، وہی انگریزوں کا لندن جس کو دونوں گروہوں نے مشترک طور پر جہنم فرض کر لیا تھا اور اپنے خوابوں کے دیس کو اپنے لئے جنت یقین کر رکھا تھا ۔
امریکہ کے سابق صدر مسٹر رچرڈ نکسن نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے قائدین (Leaders) اس کتاب میں بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ مصنف نے ہندوستان اور پاکستان کے لیڈروں کے بارہ میں بھی اپنے خیالات پیش کئے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ جنگِ عظیم ثانی کے بعد کی تاریخ میں بے معنی فوجی اخراجات کی سب سے زیادہ المناک مثالوں میں سے ایک وہ ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے جھگڑے کی صورت میں پائی جاتی ہے :
The Indo-Pakistani conflict was one of the most tragic examples of senseless military spending in post-war history. رچرڈ ڈنکسن کے الفاظ خواہ ہمیں کتنے ہی ناپسند ہوں ۔ مگر یہ خود ہمارے اپنے لیڈروں کے پیدا کردہ ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان کے موجودہ حالات اگر ایسے نہ ہوتے تو امریکہ کے سابق صدر کو یہ کہنے کی بھی جرأت نہ ہوتی ۔
یہاں جو ایشیائی مقیم ہیں ان کے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں ۔ مقامی باشندوں کا انہیں حقیر سمجھنا ۔ اور اپنے بچوں کے بارہ میں ان کی بے بسی ۔
انگریز قوم بے حد متحمل مزاج قوم ہے ۔ اس لئے بہت زیادہ کھلے طور پر ایشیائیوں سے اس کی بیزاری کا اظہار نہیں ہوتا ۔ مگر روزمرہ کی زندگی میں ایشیائیوں کو بار بار اس کا تلخ تجربہ اٹھانا پڑتا ہے ۔ مثلاً ایک ایشیائی خاندان کا بچہ ایک روز باہر سے آیا اور غم زدہ ہو کر اپنی ماں سے بولا ’’ ممی انگریز بچے ہم کو بلیک ( کالا ) کیوں کہتے ہیں ۔ ہم بلیک تو نہیں ہیں ‘‘ ایک صاحب جنہوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues