Al-Risala · August 1983 · page 14

Gurinder Singh Mandla: Broke school rules

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴

انگریز خاتون سے شادی کی ہے۔ ان کے اپنے بچے جب خفا ہوتے ہیں تو اپنے والد کو کہتے ہیں "بلیک" جو بچے یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ انگریزی ٹیلی وژن دیکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ صرف انگریزی میں بول سکتے ہیں وہ اپنے والدین کی زبان نہیں جانتے۔ والدین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے اپنی مادری زبان میں بات نہیں کرسکتے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بچوں کی آزادی ہے جو یہاں کا پورا ماحول انہیں سکھارہا ہے۔ موجودہ مغرب کا خاص مزاج ہے اپنے آپ سے باہر کسی اتھارٹی کو نہ ماننا۔ بچے یہاں کی فضا میں ہر وقت یہی سبق سیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف خدا و رسول سے منحرف ہورہے ہیں بلکہ اپنے ماں باپ کی بات ماننے کو اپنی انفرادی آزادی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ صفائی سے کہتے ہیں کہ دوسرا کوئی شخص ہمارے اوپر پابندی کیسے لگا سکتا ہے ۔ ہم جو کچھ کریں گے اپنی سمجھ سے کریں گے نہ کہ دوسرے کی سمجھ سے۔ کچھ ایشیائی خاندان مقاومت کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے خاندانوں نے حالات سے مصالحت کرلی ہے۔ ایک دیندار خاندان کی بچی جو اپنے گھر میں یہ سنتی تھی کہ صرف ذبیحہ کا گوشت کھانا چاہئے ۔ اس سے اسکول میں ایک دوسرے مسلمان خاندان کی بچی نے کہا کہ ہم لوگ ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کا فرق نہیں کرتے ۔ ہم وہی کھاتے ہیں جو بازار میں ملتا ہے۔ پہلے خاندان کی بچی اپنے گھر آئی تو اس نے اپنی ماں سے کہا، "ممی آپ ہم لوگوں کو غیر ذبیحہ کا گوشت کھانے سے منع کرتی ہیں۔ حالانکہ فلاں مسلمان گھر کے لوگ غیر ذبیحہ کا گوشت کھاتے ہیں۔ کیا وہ مسلمان نہیں ہیں۔ کیا ہمارا اسلام دوسرا ہے اور ان کا اسلام دوسرا؟ "

ایشیائی لوگ مغربی ملکوں میں زیادہ کمائی کے لئے جاتے ہیں۔ تاہم میرے نزدیک اس کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ۔ محنتی آدمی اپنے ملک میں بھی کافی کمائی کرسکتا ہے۔ اگر چہ یہ فرق ضرور ہے ہے کہ باہر جو کچھ کم محنت کرکے مل جاتا ہے اس کو اپنے ملک میں پانے کے لئے زیادہ محنت کا ثبوت دینا ہوگا ۔

البتہ مغربی ملکوں میں ایک خاص چیز ہے جو ہندوستان جیسے ملکوں میں موجود نہیں۔ اور وہ ہے معاملات میں دیانت داری ۔ ایک صاحب نے لندن کی ایک دکان سے جوتا خریدا۔ جوتا پہلے ہی استعمال میں پھٹ گیا ۔ ان کے پاس خریداری کی رسید محفوظ نہ تھی ۔ تاہم انہوں نے جوتا کمپنی کے ہیڈ کوارٹر کو خط لکھا ۔ اس کے جواب میں ان کے پاس جو معذرت نامہ آیا اس کے ساتھ لفافہ میں پوری قیمت کا بینک چیک بھی موجود تھا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page