Al-Risala · August 1983 · page 30

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰

اس سے بیزار ہو ۔ اور اے میری قوم ، میں اس پر تم سے کچھ مال نہیں مانگتا ۔ میرا اجر تو بس اللہ کے ذمہ ہے اور میں ہرگز ان کو اپنے سے دور کرنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں ۔ ان لوگوں کو اپنے رب سے ملنا ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں تم لوگ جہالت میں مبتلا ہو۔ اور اے میری قوم ، اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کے مقابلہ میں کون میری مدد کرے گا ۔ کیا تم غور نہیں کرتے ۔ اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔ اور نہ میں غیب کی خبر رکھتا ہوں ۔ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جو لوگ تمہاری نگاہوں میں حقیر ہیں ان کو اللہ کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو میں ہی ظالم ہوں گا ۲۸ - ۳۱ یہاں بینہ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسیر النسفی) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتا ہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتا ہے ۔ دلیل اور نبوت ۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انہیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز ، جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طور پر پیغمبر سے ملی ہوئی ہوگی ۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہ راست خدا کی طرف سے آئی ہے ۔

قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں ، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے ۔ اور وہ دلیل اور ہدایت ہے ۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کا مل طور پر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے ۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے ۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں دکھائی دے گی ۔

دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے ۔ اس کی صحیح کار کردگی کے لئے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اور زمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضا ہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طور پر ختم کر دے ۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لئے احتجاج اور مطالبہ بھی کر رہا ہو ، وہ داعی نہیں ، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہو سکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں ۔

مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس لئے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال و جاہ کا مالک ہے ۔ اور کسی دین دار کو اس لئے ناقابل لحاظ نہ سمجھے کہ اس کے پاس دنیوی شان و شوکت

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page