Al-Risala · August 1983 · page 31

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۱

کی چیزیں موجود نہیں ۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے ۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہو سکتی ہے ۔ قَالُوا يٰنُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصادقین، ۝ قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيْكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ ۝ وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْ إِنْ أَرَدْتُّ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۝ انہوں نے کہا کہ اے نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کر لیا۔ اب وہ چیز لے آؤ جس کا ہم سے وعدہ کرتے رہے ہو، اگر تم سچے ہو۔ نوح نے کہا اس کو تو تمہارے اوپر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اس کے قابو سے باہر نہ جا سکو گے۔ اور میری نصیحت تم کو فائدہ نہیں دے گی اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں جب کہ اللہ یہ چاہتا ہو کہ وہ تم کو گمراہ کرے ۔ وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے ۳۲ - ۳۳ حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا ۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کر رہے تھے ۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب اس کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھودیتا ہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کر دیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث و جدال معلوم ہونے لگتی ہے ۔

"بہت جدال کر چکے" کا جملہ در اصل یہ بتانے کے لئے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا ۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔

اسی طرح مخالفین نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا ۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھا کہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں ۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انہوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page