” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۲
ہود 11 تذکیر القرآن ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایسا عذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے معنیٰ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم حق پر ہیں اور تم ناحق پر۔
حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چونکہ میں کمزور ہوں اس لیے تمہاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمہارے اوپر آ سکتا ہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمہیں نظر آ جاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لئے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔
داعی حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چونکہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لئے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر و قیمت کبھی نہیں پا سکتے۔ اب تو تمہارے لئے اسی دن کا انتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمہارے سامنے آجائے۔
اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ کیا وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ کہو کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرا جرم میرے اوپر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بری ہوں جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر نے یہ کلام خود گھڑ لیا ہے ، یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے ، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے ۔ حتیٰ کہ وہ ماضی کے رسولوں کو مانتے تھے۔ پھر انہوں نے ایسا کیوں کہا۔ یہ دراصل وحی کا انکار نہیں تھا۔ بلکہ صاحب وحی کا انکار تھا۔ جو شخص خدا کی طرف سے بول رہا تھا وہ دیکھنے میں ان کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کا ظاہر پرست مزاج سمجھ نہیں پاتا تھا کہ ایسا ایک آدمی وہ شخص کیسے ہو سکتا ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام بری کے لئے چنا ہو ۔ "میرا جرم میرے اوپر تمہارا جرم تمہارے اوپر" یہ دراصل کلمہ رخصت ہے۔ جب مخاطب دلیل سے بات کو نہیں مانتا ۔ ہر قسم کی وضاحت کے باوجود وہ انکار پر تلا ہوا ہے تو داعی محسوس کرتا ہے کہ اس کے لئے اب آخری چارہ کار صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہہ کر خاموش ہو جائے کہ میں اور تم دونوں حاکم اصلی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں ۔ وہاں ہر ایک کا حال کھل
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues