Al-Risala · August 1983 · page 33

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳

تذکیر القرآن جائیکا۔ اور ہر آدمی اپنی حقیقت کے اعتبار سے جیسا تھا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔ جب دلیل کی حد ختم ہو جائے تو داعی کے لئے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہتی کہ وہ یقین کی زبان میں کلام کرکے علیحدگی اختیار کرلے۔

وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ O وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحِينَا وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ O وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأَ مِنْ قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ O فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُقِيمٌ ۳۷ - ۳۹ اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا سوا اس کے جو ایمان لا چکا۔ پس تم ان کاموں پر غمگین نہ ہو جو وہ کر رہے ہیں۔ اور ہمارے روبرو اور ہمارے حکم سے تم کشتی بناؤ اور ظالموں کے حق میں مجھ سے بات نہ کرو، بیشک یہ لوگ غرق ہوں گے۔ اور نوح کشتی بنانے لگا۔ اور جب اس کی قوم کا کوئی سردار اس پر گزرتا تو وہ اس کی ہنسی اڑاتا، انہوں نے کہا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں۔ تم جلد جان لو گے کہ وہ کون ہیں جن پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے اور اس پر وہ عذاب اترتا ہے جو دائمی ہے ۳۹ - ۳۷ انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طور پر اپنے آزادانہ فیصلے سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلے کے تحت خدا کے مومن بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کر دیا جائے تاکہ جس چیز کا انہوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لئے یہ وقت آگیا تھا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page