” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۴
کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تا کہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لئے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمہارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔
حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چونکہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس لئے جب انہوں نے دیکھا کہ آنے والے مفر وضہ عذاب سے بچنے کے لئے کشتی بھی تیار کی جا رہی ہے تو وہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔
ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا ساز و سامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا۔ قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقت واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔
حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ ۚ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَبُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلَا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ قَالَ سَاوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues