” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۵
تذکیر القرآن
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور طوفان ابل پڑا ہم نے نوح سے کہا کہ ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوا ان اشخاص کے جن کی بابت پہلے کہا جا چکا ہے اور سب ایمان والوں کو بھی۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ اور نوح نے کہا کہ کشتی میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے اس کا چلنا ہے اور اس ٹھہرنا بھی۔ بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ اور کشتی پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چلنے لگی۔ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جو اس سے الگ تھا۔ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ مت رہ۔ اس نے کہا میں کسی پہاڑ کی پناہ لوں گا جو مجھ کو پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا کہ آج کوئی اللہ کے حکم سے بچانے والا نہیں مگر وہ جس پر اللہ رحم کرے۔ اور دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔ اور کہا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ اور پانی سکھا دیا گیا ۔ اور معاملہ کا فیصلہ ہو گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی اور کہہ دیا گیا کہ دور ہو ظالموں کی قوم ۴۳-۴۴ جب کشتی بن کر تیار ہو گئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے ۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی ۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے ۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتیٰ کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہو گیا ــــ خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے ، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔
جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے اور طوفان تھم گیا ۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہو گئی۔ طوفان نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھنے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہو جاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لئے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہو گئے۔
دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے براہ راست خدا کے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues