” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶
تذکیر القرآن هود ۱۱ لے ۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پا لے۔
وَ نَادَى نُوْحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِيْ وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحٰكِمِيْنَ قَالَ يَنُوْحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تسئلن مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ أَنْ اسئلک مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۚ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِيْ وَتَرْحَمْنِيْ أَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِينَ اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے میرے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے۔ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔ خدا نے کہا اے نوح، وہ تیرے گھر والوں میں نہیں۔ اس کے کام خراب ہیں۔ پس مجھ سے اس چیز کے لیے سوال نہ کر جس کا تمہیں علم نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنو۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب، میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اور اگر تو مجھے معاف نہ کرے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں برباد ہو جاؤں گا طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔ حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لئے ڈوبنا مقدر تھا اس لئے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انہوں نے اس کے بچاؤ کے لئے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔
اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ جو لوگ بزرگوں کی اولاد ہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یافتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کر دیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ نسبی یا گروہی بنیادوں پر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لئے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کر دے۔ جو عمل صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اور غیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طور پر ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues