” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۷
تذکیر القرآن ہود ۱۱ قِیلَ یَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ وَأُمَمٍ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِیمٌ تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیهَا إِلَیْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ کہا گیا کہ اے نوح ، اترو، ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اور برکتوں کے ساتھ، تم پر اور ان گروہوں پر جو تمہارے ساتھ ہیں۔ اور (ان سے ظہور میں آنے والے) گروہ کہ ہم ان کو فائدہ دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک درد ناک عذاب پکڑلے گا۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو! بے شک آخری انجام ڈرنے والوں کے لئے ہے جب تمام برے لوگ غرق ہو چکے تو طوفان تھم گیا۔ پانی دھیرے دھیرے زمین میں اور سمندروں میں چلا گیا ۔ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی ، آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے نکل کر زمین پر اترے۔ زمین دوبارہ خدا کے حکم سے سرسبز اور آباد ہو گئی۔
حضرت نوح جن لوگوں کے درمیان آئے وہ حضرت آدم کی نبوت کو ماننے والے لوگ تھے۔ آپ کے بعد آپ کی امت ابتدا از راہِ راست پر رہی۔ اس کے بعد اس کی اگلی نسلوں میں بگاڑ آیا تو دوبارہ انبیاء بھیجے گئے۔ یہ بعد کو آنے والے انبیاء ان قوموں میں آتے جو حضرت نوح کی نبوت کو مانتی تھیں۔ اس کے باوجود جب انہوں نے وقت کے نبی کو مان کر اپنی اصلاح نہ کی تو وہ ہلاک کر دی گئیں۔ گویا صرف کسی نبی کو ماننا یا اس کی طرف اپنے کو منسوب کرنا نجات یافتہ ہونے کے لئے کافی نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایمان مطلوب ہے جو زندہ ایمان ہو اور جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ آدمی کی زندگی کو نیک عملی کی زندگی میں تبدیل کر دے۔ حضرت نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ باطل پرستوں کا زور خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اور ان کی زندگی خواہ کتنی ہی طویل ہو جائے ۔ بالآخر ان کے لئے جو چیز مقدر ہے وہ ہلاکت ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اہلِ ایمان خواہ کتنے ہی کم ہوں اور خواہ وہ بظاہر کتنے ہی بے زور ہوں۔ مگر جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنائے جاتے ہیں، ابتداءً موجودہ دنیا میں اور آخری طور پر آخرت میں۔
وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُوداً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَیْرُهُ إِنْ أَنْتُمْ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues