Al-Risala · August 1983 · page 38

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۸

تذکیر القرآن هود اا اَلْمُفْتَرُونَ يَقَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۚ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ وَيَقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ ﴿۵۲﴾ اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ھود کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم ، اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں۔ اے میری قوم ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے۔ اور اے میری قوم ، اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو۔ وہ تمہارے اوپر خوب بارشیں برسائے گا۔ اور تمہاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اور تم مجرم ہو کر روگردانی نہ کرو۔ ۵۰ - ۵۲ قوم عاد کی ہدایت کے لئے حضرت ھود کو اٹھایا گیا جو انہی کے بھائی تھے۔ یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طور پر قوم کی نفسیات ، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ مؤثر طور پر اس کے اندر دعوت حق کا کام کر سکتے ہیں۔

حضرت ھود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمہارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف " مثبت طور پر " اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتا ہے۔ کیونکہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔

ہر پیغمبر کے زمانہ میں ایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لئے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں ، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیار یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالاتر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقت واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائنات کی نظامی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلنا ہو۔

تمہاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا (بیفر ائد شمار قوت تو بات تو شما ) کا مطلب مادی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page