” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۳۹
تذکیر القرآن هود ۱۱ قوت میں اضافہ ہے۔ کیونکہ قومِ عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقتور تھی ۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر نے جب ان کو عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے (من اشد منا قوة، حم السجده (۱۵) اس لئے مادی قوت میں اضافہ کی بات ، دعوتی اعتبار سے ان کے لئے زیادہ پرکشش نہیں ہو سکتی تھی۔
اس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمہاری طاقت گھٹے گی نہیں۔ بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی ۔
قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ انہوں نے کہا کہ اے ہود ، تم ہمارے پاس کوئی کھلی نشانی لے کر نہیں آئے ہو ، اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ اور ہم ہرگز تم کو ماننے والے نہیں ہیں۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ تمہارے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑ گئی ہے۔ ھود نے کہا ، میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بری ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو ، اس کے سوا ۔ پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو ، پھر مجھ کو مہلت نہ دو ۔ ۔ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی ۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا رب سیدھی راہ پر ہے قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمہارے پاس اپنے بر سر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں نہیں تھی ۔ آنجناب کے پاس یقیناً دلیل تھی ، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس کی وجہ تھی کہ آدمی عام طور پر کسی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues