Al-Risala · August 1983 · page 40

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۴۰

بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا۔ بلکہ اس اعتبار سے دیکھتا ہے کہ جو شخص اس کو پیش کر رہا ہے وہ کیسا ہے ۔ چونکہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لئے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی ۔

جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لیکر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہو گیا ہو ۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرات ہوئی کہ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ’’ ہمارا تو خیال ہے کہ تمہارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے ‘‘ مگر داعیِ حق کی صداقت کا ثبوت ، نظری دلائل کے بعد ، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کر پاتے ۔

خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں ۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی ۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے ۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراطِ مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لئے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ ادھر ادھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

حضرت ہود نے جب کہا کہ " میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے " تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم ( دین کی شاہراہ) ہے ۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار کئے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے ۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی ، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے ۔ ان آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے ۔ توحید، عبادتِ الہیٰ ، استغفار ، توبہ ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ ، خدا کو اپنا پر وردگار ماننا ، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا ، خدا کو اپنے اوپرنگراں بنالینا ۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔

یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں ۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے ۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتا ہے ۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page