Al-Risala · September 1983 · page 2

تعصب کی حد

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲

تعصب کی حد

جار اللہ زمخشری (۵۳۸ ھ۔ ۴۶۷ھ) ایک معتزلی عالم تھے۔ معتزلہ سے عام مسلمانوں کا اختلاف اتنا بڑھا کہ وہ ان کی کتابوں کے دشمن ہو گئے۔ فرقہ معتزلہ میں کثرت سے علماء تھےاور انہوں نے بہت بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں مگر ان کی تمام کتابیں جلا دی گئیں ۔ اس میں صرف ایک استثناء رہے اور وہ زمخشری کا ہے۔ زمخشری اگر چہ معروف معتزلی تھا۔ تاہم اس کی دو کتابیں المفصل (نحو) اور الکشاف (تفسیر قرآن) آج بھی موجود ہیں اور علمائے اہل سنت کے درمیان بدستور مقبول ہیں۔ اور علمی مرجع کے طور پر کام دیتی ہیں۔

اسی طرح ابن منظور (۷۱۱۔ ۶۳۰ھ) ایک شیعہ تھا۔ شیعی گروہ اور اہل سنت کے درمیان ایک ہزار سال سے زبردست اختلافات موجود ہیں۔ آج تک ان میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ شیعہ علماء کی کتابیں صرف شیعہ فرقہ کے درمیان رائج ہیں۔ سنی علماء ان کو دیکھتے ہیں تو تردید کے لئے نہ کہ استفادہ کے لئے ۔ مگر یہاں بھی بعض استثناء ہیں۔ مثلاً ابن منظور کی کتاب لسان العرب (لغت) کو علماءاہل سنت کے درمیان خصوصی مقام حاصل ہے اور اہل علم عام طور پر اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

زمخشری کا اعتزال اور ابن منظور کی شیعیت ان کی کتابوں کو علماء اہل سنت کے درمیان مقبول بنانے میں حارج نہ ہوسکیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بعض اہم موضوعات پر ایسی قیمتی کتابیں لکھیں جن کے مثل اس خاص موضوع پر کوئی دوسری کتاب موجود نہ تھی ۔ ان کی مقبولیت ان کے امتیازی عمل کی قیمت ہے ۔ بعض آدمی کا کام اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ اعتقادی اختلافات ان کو قبول کرنے میں حارج نہیں ہوتے۔

زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے لئے جن لوگوں کو صرف "تعصب" کا لفظ معلوم ہے انہیں ایک اور حقیقت کی خبر نہیں۔ وہ یہ کہ تعصب کے عمل کی بھی ایک حد ہے ۔ ایک حد کے بعد تعصب غیر موثر ہو جاتا ہے یہ حد ہے " امتیاز "۔

اگر آپ اپنی کارکردگی کو عام معیار سے بڑھا کر امتیاز کے درجہ میں پہنچا دیں تو تعصب کی دیواریں اپنے آپ گر جاتی ہیں ۔ اس کے بعد آپ کا دشمن بھی آپ کا اتنا ہی قدرداں بن جاتا ہے جتنا آپ کا دوست ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page