Al-Risala · September 1983 · page 11

اظہار دین

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۱

اظہار دین

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین اللہ نے اپنا رسول بھیجا ہدایت اور سچا دین لے کر الحق لیظھره علی الدين کلہ ولو کرہ تاکہ اس کو سب دینوں سے اوپر کر دے ، اگر چہ شرک المشرکون کرنے والے کتنا ہی ناخوش ہوں۔

یہ آیت قرآن میں تین مقامات پر آئی ہے (التوبہ ، الفتح ، الصف) اس سے مراد فکری غلبہ ہے نہ کہ اسلام کے تمام قوانین کو نافذ کر دینا۔ کیونکہ آیت میں اظہار کا لفظ ہے نہ کہ نفاذ کا۔ اظہار کے لفظ میں ظہور اور غلبہ کا مفہوم ہے۔ قرآن میں ہے و اظھر ہ الله (التحریم ۳) یعنی خدا نے چھپی بات کو ظاہر کر دیا۔ فلا يظهر علی غيبه احدا (الجن ۲۶) یعنی خدا کے غیب پر کوئی مطلع نہیں ہوتا۔ اس لفظ کا دوسرا مفہوم غلبہ ہے۔ قرآن میں ہے یا قوم لکم الملک اليوم ظاھرین فی الارض (غافر ۲۹) یعنی تمہارے پاس اقتدار ہے اور تم زمین میں برتری رکھتے ہو۔ فاید نا الذين آمنوا علی عدوهم فاصبحوا ظاهرين (الصف ۱۴) یہ آیت حضرت مسیح کے پیروؤں کے بارہ میں ہے ان کو یہود پر خدا کی مدد سے غلبہ مل گیا۔ یہ غلبہ کبھی بھی اس معنی میں نہیں تھا کہ حضرت مسیح کی شریعت کے تمام قوانین یہود کے اوپر نافذ ہو گئے ہوں۔ یہ صرف اس معنی میں تھا کہ حضرت مسیح کے بعد جب مسیحی مذہب پھیلا اور بالآخر رومی بادشاہ قسطنطین اعظم مسیحی ہو گیا تو رومی امپائر کے باشندے کثرت سے مسیحی بن گئے۔ اس طرح ہر جگہ مسیحیوں کی اکثریت ہو گئی اور وہ یہودیوں کے اوپر چھا گئے۔ اظہار کا لفظ نہ باعتبار لغت نفاذ قانون یا اقامت نظام کے معنی میں ہے اور نہ قرآن میں کسی مقام پر وہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ خود مذکورہ آیت میں لیظھرہ علی الدين (دين پر غالب کر دے) فرمایا گیاہے لیظھرہ علی الناس (لوگوں کے اوپر غالب کر دے) نہیں فرمایا گیا ۔ اور یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ قوانین انسان کے اوپر نافذ ہوتے ہیں نہ کہ دین یا ادیان کے اوپر ۔

خدا کا یہ منصب نہ تھا کہ "مشرکین "نے خدا اور رسول کے نام پر جو خود ساختہ مذاہب بنا رکھے ہیں ان کو مغلوب کر کے دین اسلام کو ان کے اوپر فکری اور تاریخی حیثیت سے غالب کر دیا جائے ۔ یہ کام پیغمبر اسلام کے ذریعہ مکمل طور پر انجام پا گیا ۔ فالحمد لله علی ذلك ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page