Al-Risala · September 1983 · page 12

روپیہ سے راکھ تک

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲

روپیہ سے راکھ تک

گھنشيام داس برلا (۱۹۸۳-۱۸۹۴) ہندوستان کے مشہور ترین صنعت کار تھے۔ ان کی اعلیٰ کامیابی کا راز ان کی بے حد با اصول زندگی تھی۔ انھوں نے ۱۲ سال کی عمر میں معمولی کاروبار سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ پھر وہ عظیم ترقی تک پہنچے آج ان کا خاندان ہندوستان کا واحد سب سے بڑا کاروباری خاندان ہے۔

مسٹر برلا کا معمول تھا کہ صبح ۵ بجے اٹھتے اور شام ۹ بجے تک مسلسل کام میں مشغول رہتے۔ ان کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ وہ شراب کے بجائے کافی پیتے تھے۔ دو کھانے کے درمیان پانی کے سوا اور کچھ انہیں لیتے تھے۔ اکثر اپنا کھانا خود اپنے ہاتھ سے پکاتے۔

مسٹر برلا روزانہ صبح کو ٹہلنے کے لئے نکلتے تھے۔ اس معمول میں کوئی فرق نہیں آتا تھا‘ خواہ وہ ہندوستان میں ہوں یا ہندوستان کے باہر۔ ۱۱ جون ۱۹۸۳ اکووۃ لندن میں تھے۔ وہ حسب معمول صبح کے ناشتہ کے بعد ریجنٹ اسٹریٹ پر ٹہلنے کے لئے نکلے۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد انہیں تکلیف محسوس ہوئی۔ انھوں نے اپنے دو مددگاروں کو بتایا جو اس وقت ان کے ساتھ تھے۔ وہ نہیں فوراً گھر واپس لائے۔ گھر آتے ہی وہ بے ہوش ہو گئے۔ اس کے بعد انہیں لندن کے مڈل سکس اسپتال پہنچایا گیا۔ اسپتال میں انھیں تھوڑی دیر کے لئے ہوش آیا۔ وہاں انھوں نے کہا ڈاکٹر مجھے کیا تکلیف ہے۔

What is wrong with me, Doctor?

ڈاکٹروں نے کہا۔ ہم پانچ منٹ میں معائنہ کر کے بتاتے ہیں۔ مگر قبل اس کے کہ ڈاکٹروں کا معائنہ مکمل ہو ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ مسٹر برلا کی وصیت تھی کہ جہاں میرا انتقال ہو وہیں میرے آخری مراسم ادا کئے جائیں۔ چنانچہ مسٹر برلا کی لاش کو لندن میں بجلی کے ذریعہ جلا دیا گیا۔ اور ان کی راکھ ہندوستان لاکر یہاں کی ندیوں میں بہا دی گئی۔ مسٹر برلا کی اسکول میں تعلیم نہیں ہوئی۔ تاہم بعد کو انھوں نے ذاتی محنت سے اپنے اندر لیاقت پیدا کی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بنے۔ ان کی ایک کتاب کا ہندی نام ہے روپیہ کی کہانی۔ مسٹر برلا نے "روپیہ کی کہانی" لکھی‘ حالانکہ بالآخر وہ خود "راکھ کی کہانی" بننے والے تھے۔ یہی ہر آدمی کا معاملہ ہے۔ ہر آدمی اپنی کامیابی کی داستان لکھ رہا ہے۔ حالانکہ آخر کار وہ جہاں پہنچنے والا ہے وہ مکمل بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page