حقیقتِ انسانی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
حقیقتِ انسانی
سب سے بڑی نیکی حقیقت واقع کا اعتراف ہے۔ اس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ اس کے مقابلہ میں انسان بالکل عاجز اور بے بس ہے۔ مگر اس دنیا میں انسان کو بظاہر ایسے حالات میں رکھا گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح آزاد اور خود مختار محسوس کرے۔ وہی انسان کا امتحان ہے۔ جو آدمی حقیقی صورت حال کو سمجھے اور اس کا اعتراف کر کے خدا کے آگے جھک جائے، وہ قابل انعام ٹھہرا۔ اس کے برعکس جو آدمی امتحانی پردے کو پھاڑنے میں کامیاب نہ ہوا اور خدا کی بڑائی کے آگے اپنے کو نہ جھکائے وہ مجرم ہے۔ ایسا شخص عنقریب سخت ترین عذاب میں ڈال دیا جائے گا۔
دنیا میں یہ مسئلہ ہمیشہ بہت بڑے پیمانے پر پایا گیا ہے جس کو خرابی کا مسئلہ (Problem of evil) کہا جاتا ہے۔ انسان کے ساتھ موجودہ دنیا میں بے شمار قسم کے دکھ لگے ہوئے ہے۔ ایک شخص تندرست و توانا ہے اور اچانک موت آ کر اس کو دبوچ لیتی ہے۔ ایک شخص کے ساتھ حادثہ پیش آتا ہے اور اس کے شاندار جسم کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ اسی طرح بیماریاں، قحط، زلزلے اور طرح طرح کی آفتیں انسان کے منصوبوں کو اس طرح تہس نہس کرتی رہتی ہیں جیسے ان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔
بظاہر یہ بڑا بے رحمی کا معاملہ ہے۔ مگر اس کے اندر زبر دست حکمت چھپی ہوئی ہے۔ یہ تمام نا خوشگوار واقعات اس لئے پیش آتے ہیں کہ انسان کی آنکھ کھلیں۔ وہ انسان کو یاد دلائیں کہ بظاہر با اختیار ہونے کے باوجود وہ کس قدر بے بس ہے۔ سب کچھ کا مالک ہونے کے باوجود وہ کتنا زیادہ بے کچھ ہے۔ یہ خرابیاں دراصل بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت ہیں۔ اس طرح ظواہر کا پردہ پھاڑ کر انسان کو اصل حقیقت کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ قیامت میں جو پردہ مکمل طور پر پھاڑا جانے والا ہے وہ حادثات کے ذریعہ جزئی طور پر پھاڑ دیا جاتا ہے۔
دنیا کی مصیبتیں انسان کو اس کی بے بسی کی یاد دلاتی ہیں۔ وہ اس کو ذہنی طور پر اس قابل بنااتی ہیں کہ وہ حقیقت واقع کو پالے اور اس کو مان کر خدا کے انعامات کا مستحق بنے۔ آنے والی دنیا میں انسان حقیقی طور پر آزاد اور خود مختار ہو گا۔ وہاں وہ ہر قسم کے دکھ اور غم سے مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔ مگر یہ درجہ کسی کو بطور انعام ملے گانہ کہ بطور استحقاق۔ جس نے اپنے عجز کو جان لیا وہی اس قابل ہے کہ اس کو آزادی کی نعمت عطا ہو۔ جو اپنی بے اختیاری پر راضی ہو گیا اسی نے اس اہلیت کا ثبوت دیا کہ خدا اس کو اپنی معیاری دنیا میں با اختیار بن کر رکھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues