روحانی تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۵
ان کو بنانے کی صورت کیا ہوتی ہے، وہ یہ کہ قدرت نے ان کے تمام اجزار خام شکل میں زمین پر پھیلادیے۔ کچھ کچھ چیزوں کو زمین کے نیچے دفن کر دیا۔ یہ گویا ایک عظیم جگسا پزل کے بہت سے ٹکڑے ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اب انسان کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ ان کو تلاش کر کے حاصل کرے اور ان کو جوڑ کر بامعنی چیزیں بنائے۔
جدید مادی تہذیب کی صورت میں انسان نے بے شمار نئی چیزیں بنائی ہیں۔ یہ سب چیزیں اگرچہ مکمل طور پر ہماری اس دنیا کے سامانوں سے بنی ہیں مگر ان میں سے کوئی چیز بھی اپنی موجودہ تکمیلی صورت میں کہیں موجود نہیں تھی۔ انسان نے ان کے مختلف بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جمع کیا اور لمبے تجربے کے بعد ان کو جگسا پزل کی طرح جوڑ کر با معنی چیزوں کی صورت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسی عمل کے نتائج ہیں جن کو ٹیلی فون، ،کار اور فرنیچر کہتے ہیں۔
یہ ہماری مادی تہذیب کا معاملہ تھا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہماری روحانی تہذیب کا بھی ہے۔ دونوں جگہ قدرت نے ایک ہی نمونہ کو ہمارے لئے پسند کیا ہے۔ روحانی دنیا کی تعمیر کا معاملہ بھی ایک قسم کے جگسا پزل کا معاملہ ہے۔ مادی دنیا کی تعمیر کے لئے قدرت نے ہمارے چاروں طرف مادی ٹکڑے بکھیرے تھے ۔ یہاں قدرت نے اسی طرح بہت سے معنوی ٹکڑے ہمارے چاروں طرف بکھیر دیئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہر ٹکڑے پر مخفی اشارات بھی درج ہیں۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ان اشارات کو پڑھے اور ان کے مطابق مختلف ٹکڑوں کو اپنے اپنے مقام پر جوڑ کر صحیح اور با معنی تصویر بنائے۔ یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ آدمی کو بہر حال یہاں اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ ان ٹکڑوں پر لکھے ہوئے مخفی اشاروں کو پہچانے اور ان کے مطابق بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر مطلوبہ تصویر بنائے۔ مادی تہذیب کی تعمیر میں اگر انسان قدرت کے اس نہج کی پیروی نہ کرتا تو اس کو کبھی جدید طرز کا جگمگاتا ہوا شہر دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اسی طرح اگر وہ روحانی تہذیب کی تعمیر میں سنجیدگی کے ساتھ اس منہج کی پیروی نہ کرے تو اس کے لئے یہاں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ انسان کی تمام گمراہیاں اسی مخصوص جانچ میں ناکام ہونے کا نتیجہ ہیں۔ انسان مادی تہذیب کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر ان کا جگسا پزل بنانے کے معاملہ میں انتہائی سنجیدہ تھا اس لئے وہاں وہ پوری طرح کامیاب ہوا۔ اس کے برعکس روحانی تہذیب کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ نہیں ۔ اسی لئے اس دوسرے میدان میں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان صحیح طور پر اپنا جگسا پزل بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues