Al-Risala · September 1983 · page 16

روحانی تہذیب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۶

شرک، الحاد اور دوسرے تمام غلط قسم کے فکری نظام اسی لیے وجود میں آئے کہ انسان قدرت کے مختلف ٹکڑوں پر لکھے ہوئے اشارات کو پڑھ نہ سکا اور ان کو ادھر کا ادھر اور ادھر کا ادھر جوڑ دیا۔ مثال کے طور پر مظاہر کائنات میں تنوع کو دیکھ کر اس نے خدائی میں تنوع کا عقیدہ قائم کر لیا۔ اس لیے کہا کہ جب چیزیں کئی ہیں توان کے خدا بھی کئی ہی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ مظاہر کائنات میں تنوع خدا کی صفات میں تنوع کی علامت تھی نہ کہ خود خدائی میں تنوع کی علامت۔ اسی طرح کائنات میں نظام تعلیل ( Causation ) کی دریافت کو اس نے خدا کی دریافت کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالانکہ وہ خدا کے طریق کار کی دریافت کے ہم معنی تھا نہ کہ خود خدا کی دریافت کے ہم معنیٰ وغیرہ۔

اب دیکھئے کہ ان ٹکڑوں پر کس قسم کے اشارات لکھے ہوئے ہیں اور کس طرح انہیں بامعنی طور پر جوڑا جاسکتا ہے۔ جب ہم اس نظر سے انسان اور کائنات کے معاملہ پر غور کرتے ہیں تو مختلف رہنما چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ مثلاً ہنسی۔ اس کائنات میں صرف ایک انسان ہے جو ہنستا ہے۔ ہنسنے کی طاقت ہوا اور پانی ، جنگل اور پہاڑ، چاند اور ستارے کسی چیز میں نہیں۔ حتیٰ کہ جانوروں اور پرندوں میں بھی نہیں۔ ہنسنا انسان کی انتہائی امتیازی خصوصیت ہے۔ ہنسنا شعوری لذت کی علامت ہے اور لذت کا شعور انسان کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری معلوم کائنات میں انسان ہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے لئے ہنسی (بالفاظ دیگر خوشی) مقدر کی گئی ہے۔ انسان کے سوا کوئی بھی دوسری مخلوق ایسی نہیں جو ہنسے اور خوشی منائے۔

اس کے بعد جب ہم مزید غور کرتے ہیں تو ہمیں اس جگسا پزل کا ایک اور شارلتی ٹکڑا ہاتھ آتا ہے۔ اور وہ لذت ہے۔ یہاں بھی ہم پاتے ہیں کہ انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو لذت کو جانتا ہے۔ کھانا، پینا، ازدواجی تعلقات وغیرہ، بظاہر انسان اور جانوروں میں مشترک ہیں۔ مگر جانوروں کے لئے ان چیزوں میں کوئی لذت نہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں جبلت اور ضرورت کے لئے کرتے ہیں نہ کہ لذت لینے کے لئے۔ اس کے برعکس انسان جب کھاتا پیتا ہے، جب وہ ازدواجی تعلق قائم کرتا ہے تو وہ اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ لطف و لذت انسان کی امتیازی خصوصیت ہے۔ کسی بھی دوسری مخلوق کو یہ چیز حاصل نہیں۔ مذکورہ اشارات نے ہمیں کائناتی جگسا پزل کے دو ٹکڑوں کی طرف رہنمائی کی۔ ایک ہنسی اور دوسرے لذت۔ اس سے ہم نے جانا کہ انسان کی فطرت کے اعتبار سے اس کی کامیابی یہ ہوگی کہ اس کو خوشی ملے وہ لذت کا مالک بن سکے۔

اس کے بعد، ہم مزید مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے علم میں ایک اور ٹکڑا آتا ہے۔ اور وہ یہ کہ ہنسی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page