Al-Risala · September 1983 · page 33

قدردانی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳

قدردانی

خلیفہ عبدالحکیم ابتداءً عثمانیہ یونی ورسٹی حیدرآباد میں شعبہ فلسفہ کے صدر تھے۔ وہ طویل رخصت پر انگلستان گئے تو یہ جگہ خالی ہوگئی۔ مولانا عبدالباری ندوی (۱۹۷۶-۱۸۹۰) قائم مقام صدر کی حیثیت سے اس عہدہ پر مقرر کئے گئے۔ مولانا عبدالباری ندوی نے پرائیویٹ طور پر انگریزی پڑھی تھی۔ مگر سند کے اعتبار سے ان کے پاس میٹرک کی سند بھی نہ تھی۔ ان کے تقرر میں خاص طور پر مولا نا حبیب الرحمن خاں شیروانی کا حصہ تھا جو اس وقت حیدرآباد میں صدر الصدور تھے۔ مولانا عبدالباری ندوی حیدر آباد میں ۱۹۲۲ سے لے کر ۱۹۲۵ تک رہے۔ اس زمانہ کا ایک واقعہ وہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں۔

" حیدرآباد میں میری ملازمت کے دو سال گزر جانے کے بعد حسب قاعده استقلال کی کارروائی پیش ہوئی۔ اس زمانہ میں حیدر آباد میں گز ٹیڈ پوسٹ پر استقلال کے لئے خود اعلیٰ حضرت کی منظوری ضروری تھی۔ ابھی غالب کارروائی اعلیٰ حضرت تک پہنچی بھی نہ تھی کہ ڈیوڑھی میں (شروانی صاحب کے کسی مہربان) نے اعلیٰ حضرت کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی کہ شروانی صاحب نے فلسفہ کا صدر ایسے شخص کو بنوا دیا ہے جس کو فلسفہ تو کیا سرے سے کوئی ادنی سند بھی حاصل نہیں۔ اعلیٰ حضرت نے شروانی صاحب سے جواب طلب کرلیا شیروانی صاحب نے میرا رسالہ "مذہب اور عقلیات " کے ساتھ اپنا عریضہ منسلک کر کے یہ تحریر فرمایا کہ ان کی سند یہ ہے کہ فلسفہ نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔ جس کا اندازہ سرکار خود رسالہ ہذا کی چند سطروں سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے استقلال کی کارروائی پر اپنے دستخط کر دئے ۔ "

علامہ اقبال ۱۹۳۸ ) کا واقعہ ہے کہ اس زمانہ کے گورنر پنجاب سرایڈورڈ میکلیگن نے ایک بار ان سے دریافت کیا " کیا آپ کے خیال میں کوئی ایسا موزوں شخص ہے جس کو حکومت کی طرف سے شمس العلماءء کا خطاب دیا جائے؟ " اس کے جواب میں علامہ اقبال نے مولوی میر حسن کا نام تجویز کیا جو اس وقت مرے کالج سیالکوٹ میں استاد تھے۔ گورنر نے کہا " میں نے ان کا نام آج پہلی بار آپ کی زبان سے سنا ہے۔ کیا مولوی صاحب نے کوئی کتاب بھی لکھی ہے؟ " علامہ اقبال نے جواب دیا " ان کی لکھی ہوئی تصنیف تو نہیں۔ البتہ ان کی ایک زندہ تصنیف ضرور موجود ہے"، گورنر نے حیران ہو کر پوچھا ۔ " یہ زندہ تصنیف کیا ہے؟ " علامہ اقبال نے کہا " میں ان کی زندہ تصنیف ہوں ، وہ میرے محترم استاد ہیں " گورنر اس جواب سے بہت خوش ہوا۔ اور جلد ہی ایک سادہ تقریب میں مولوی میر حسن کو شمس العلما کا خطاب دے دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page