کائناتى نشانیاں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۹
عن ابی ذر قال ترکنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وما طائر یقلب جناحیه فی الھواء الا وھوی ذکر لنا منه علما (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی ، صفحه ۴۰۴ ) قال الدارانی انی لاخرج من منزلی فما یقع بصری علی شئ الا رأیت لله علیه نعمة ولی فیه عبرة (تفسیر ابن کثیر)
عن جابر رضی اللہ عنه قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال، یا ایہا الناس ان لله سرایا من الملائكة تنزل وتقف على مجالس الذكر فى الارض فارتعوا فى رياض الجنة ۔ فقالوا واین رياض الجنة ، قال مجالس الذکر ۔ فاغدوا او روحوا في ذكر اللہ واذکروه بانفسكم ۔ من کان يحب ان يعلم منزلته عند اللہ فلينظر كيف منزلت الله عنده فان اللہ ينزل العبد منه حيث انزله من نفسه (البيهقي)
رہتا ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔
حضرت ابو ذر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اور آپ کا حال یہ تھا کہ اگر ایک چڑیا بھی فضا میں اپنے پر ہلاتی تھی تو اس سے آپ ہم کو کسی علم کی یاد دہانی کراتے تھے۔
حضرت دارانی کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر سے نکلتا جوں تو جس چیز پر بھی میری نگاہ پڑتی ہے۔ مجھے اس میں خدا کی کوئی نعمت نظر آتی ہے اور اس میں میرے لئے کوئی عبرت ہوتی ہے۔
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! اللہ کے لئے فرشتوں کی جماعت ہے جو زمین پر ہونے والی ذکر کی مجلسوں میں آتی ہے اور ٹھہرتی ہے۔ لہٰذا تم جنت کے باغوں میں چرو۔ لوگوں نے کہا کہ جنت کے باغ کہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ذکر کی مجلسیں ہیں لہٰذا تم اللہ کی یاد میں صبح کرو یا اللہ کی یاد میں شام کرو۔ اور اللہ کو اپنے جی میں یاد کرو۔ جس آدمی کو پسند ہو کہ اللہ کے پاس اپنے مرتبہ کو جانے اس کو چاہئے کہ یہ دیکھے کہ اللہ کا مرتبہ اس کے پاس کیا ہے۔ کیونکہ اللہ بندہ کو اپنے یہاں وہی درجہ دیتا ہے ہو درجہ بندہ نے اپنے یہاں اللہ کو دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues