دوام کائنات کے درمیان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۰
دوام کائنات کے درمیان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو اکثر اس قسم کے الفاظ فرماتے: یا مقلّب القلوب ثبت قلبی علی دینك ( اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر جما دے) حضرت عائشہ نے ایک روز سنا تو کہا: اے خدا کے رسول ! آپ یہ دعا بہت کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے۔ آپ نے فرمایا:
ہر آدمی کا دل اللہ کی انگلیوں میں دو انگلی کے درمیان ہوتا ہے۔ جب وہ اس کو سیدھا کرنا چاہتا ہے تو سیدھا کر دیتا ہے اور جب وہ اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے تو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ ( ليس من قلب الا وهو بين اصبعين من اصابع الرحمن، اذا شاء ان یقیمہ اقامه وان شاء يزيغه ازاغه)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص گمراہی کے خطرہ سے خالی نہیں۔ ہر آدمی کو مسلسل اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہے۔ ہر آن اللہ سے یہ توفیق مانگنی چاہئے کہ وہ اس کو پھسلنے سے بچائے۔ جس لمحہ اللہ کی توفیق آدمی کا ساتھ چھوڑ دے گی اسی لمحہ وہ گمراہی کی وادی میں بھٹک جائے گا۔ آدمی ہر آن ہدایت اور گمراہی کے درمیان ہے اور صرف اللہ کی مدد ہی اس کو ہدایت پر قائم رکھ سکتی ہے۔
زبان اور دل سب سے اچھے بھی ہیں اور سب سے خراب بھی لقمان حکیم ایک حبشی غلام تھے۔ ان کے آقا نے ایک روز ان سے کہا کہ ایک بکری ذبح کرو اور اس میں سے دو بہترین گوشت کے ٹکڑے سے نکالو۔ لقمان نے بکری ذبح کی اور زبان اور دل نکال کر آقا کے سامنے پیش کیا۔ کچھ دن کے بعد آقا نے دوبارہ کہا کہ ایک بکری ذبح کرو اور اس میں سے دو سب سے زیادہ خراب گوشت کے ٹکڑے نکالو۔ لقمان نے بکری ذبح کی اور دوبارہ زبان اور دل نکال کر آقا کے سامنے رکھ دیا۔ آقا نے کہا میں نے تم سے دو سب سے اچھے ٹکڑے نکالنے کو کہا تو تم نے زبان اور دل نکالے اور جب میں نے تم سے دو سب سے خراب ٹکڑے نکالنے کو کہا تب بھی تم نے زبان اور دل نکالے۔ ایسا کیوں۔ لقمان حکیم نے جواب دیا: اگر یہ دونوں درست ہوں تو ان سے بہتر کوئی چیز نہیں اور اگر یہ دونوں بگڑ جائیں تو ان سے زیادہ خراب کوئی چیز نہیں ( انہ ليس من شئ اطیب منهما اذا اطابا ولا اخبث منهما اذا خبثا)
پیغمبر کی اطاعت ہر حال میں
حضرت مغیرہ بن شعبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ میں فلاں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues