کلمہ اسلام کی حقیقت، اخلاص اور تقویٰ ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۱
شخص کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے جا کر اس کو دیکھ لو۔ وہ گئے اور لڑکی کے والدین سے اپنا ارادہ ظاہر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا۔ والدین کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ ان کی لڑکی ایک غیر شخص کے سامنے آئے اور وہ اس کو دیکھے۔ لڑکی اس وقت گھر کے اندر موجود تھی، اور پردہ کے پیچھے سے یہ باتیں سن رہی تھی۔ اس نے بلند آواز سے کہا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے تو تم آکر مجھ کو دیکھ لو۔ اور اگر آپ نے حکم نہیں دیا ہے تو میں تم کو خدا کی قسم دلاتی ہوں کہ ہر گز ایسا مت کرنا (سنن ابن ماجہ، باب النکاح)
کلمہ اسلام کی حقیقت، اخلاص اور تقویٰ ہے
حضرت عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اس کو واقعی اپنے دل سے کہے وہ آگ پر حرام ہو جائے گا حضرت عمر فاروق نے کہا کہ میں تم کو بتاؤں کہ وہ کلمہ کیا ہے۔ وہ اخلاص کا کلمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب پر لازم کیا تھا۔ وہ تقویٰ کا کلمہ ہے جس کی تلقین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کو موت کے وقت کی تھی۔ وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اخرج احمد عن عثمان بن عفان قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول: انی لاعلم كلمة لا یقولھا عبد حقا من قلبه الا حرم علی النار - قال عمر بن الخطاب اکلا احد شك ماهی۔ ہی كلمة الاخلاص التی الزمھا الله تعالى محمداً صلى الله عليه وسلم واصحابا وهى كلمة التقوى التي اخلص عليها نبی الله صلى الله عليه وسلم عمه ابا طالب عند الموت شهادة ان لا اله الا الله)
ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی غیبی حقیقتوں کو دیکھنے لگے حضرت مالک بن انس کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے پوچھا کہ اے معاذ، تم نے کیسے صبح کی (كيف اصبحت يا معاذ) انھوں نے کہا کہ میں نے اللہ پر ایمان کے ساتھ صبح کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہر قول کا ایک مصداق ہوتا ہے اور ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ پھر جو کچھ تم کہتے ہو اس کا مصداق کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول میں نے کبھی کوئی ایسی صبح نہیں کی جس میں مجھے یہ خیال نہ لگا ہوا ہو کہ اب میں شام نہ کر سکوں گا۔ اور کبھی میں نے کوئی ایسی شام نہیں کی جس میں مجھے یہ خیال نہ ہو کہ میں صبح نہ کر سکوں گا۔ اور میں نے کوئی قدم ایسا نہیں اٹھایا جس میں مجھے یہ خیال نہ ہو کہ میں دوسرا قدم نہ اٹھا سکوں گا۔ اور گویا کہ میں گھٹنوں کے بل گری ہوئی ان تمام امتوں کو دیکھ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues