Al-Risala · September 1983 · page 42

قرآن نصیحت کے لئے ہے نہ کہ محض تلاوت کے لئے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲

رہا ہوں جن کو اپنے اعمال نامہ کی طرف بلایا جارہا ہے اور ان کے ساتھ ان کا پیغمبر ہے۔ اور ان کے ساتھ وہ بت ہیں جن کو وہ خدا کے سوا پوجتی تھیں۔ اور گویا کہ میں اہل دوزخ کی سرائو اور اہل جنت کے ثواب کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم معرفت کو پہنچ گئے، اب ا پر جمے رہو ، (معرفت فالنزم، حلیۃ الاولیا لا بی نعیم ، جلد اول)

قرآن نصیحت کے لئے ہے نہ کہ محض تلاوت کے لئے

امام احمد نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ ان کو بتایا گیا کہ کچھ لوگ رات کو قرآن پڑھتے ہیں اور رات بھر میں سارا قرآن ایک یا دو بار پڑھ ڈالتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے پڑھا اور انھوں نے نہیں پڑھا۔ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات کھڑی رہتی۔ آپ سورہ بقرہ ، سورہ آل عمران اور سورہ النساء پڑھتے۔ جب بھی آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ سے ڈرایا گیا ہے تو آپ ضرور اللہ سے دعا کرتے اور پناہ مانگتے۔ اور جب بھی آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہو تو آپ ضرور اللہ سے دعا کرتے اور اس میں رغبت ظاہر کرتے اخرج احمد عن عائشة رضى الله عنها انها ذكر لھا ان ناسا یقرؤن القرآن في الليل مرة او مرتين فقالت اولئك قرؤوا ولم يقرؤوا كنت اقوم مع رسول الله صلّى الله عليه وسلّم ليلة التمام فكان يقرأ بالبقرة وآل عمران و النساء فلا يمر بآية فیھا تخويف الادعا الله واستعاذ ولا يمر بآية فیھااستبشار الا دعا الله ورغب اليه) دنیا کی تکلیفوں پر صبر کرنے سے آخرت کے گناہ معاف ہوتے ہیں حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ آیت پڑھی من يعمل سوء يجزبہ (جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا)، اور کہا کہ اب ہمارے لئے بھلائی کی کیا صورت ہے۔ جو برائی بھی ہم نے کی ہے اس کی سزا ہم کو ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر، خدا تمھیں معاف کرے۔ کیا تم بیمار نہیں ہوتے۔ کیا تم کو تھکن نہیں ہوتی۔ کیا تم غمگین نہیں ہوتے۔ کیا تم کو مصیبت نہیں پیش آتی۔ کیا تم کو ٹھوکر نہیں لگتی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ یہ سب تو پیش آتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ گناہ ہوں کا بدلہ دنیا میں دیا جاتا ہے ( فھی ماتجزون بہ فی الدنیا، كنز العمال، جلد اول)

چھوٹوں کے جنازہ میں بھی بڑوں کو شرکت کرنا چاہئے

مدینہ میں ایک کالے رنگ کی باؤلی سی عورت تھی۔ وہ مسجد کا کوڑا صاف کیا کرتی تھی۔ اس کا انتقال ہوا تو چند لوگوں نے اس کی تدفین کر دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر نہ دی۔ آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو مجھ کو اس کی اطلاع دیا کرو۔ اور آپ نے بعد کو اس کی نماز جنازہ پڑھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page