You are a senior officer
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۳
ایک سفر
حلقہ الرساله کی دعوت پر میں ۱۶ نومبر ۱۹۸۲ کی شام کو حیدر آباد سے بھوپال پہنچا اور ۱۹ نومبر کی شام کو دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔
۱۶ نومبر کو جب کہ اے پی ایکسپریس مجھے لئے ہوئے تیزی سے بھوپال کی طرف بڑھ رہی تھی، میں اپنے ملک کے بارے میں شدید غم کی کیفیت میں مبتلا تھا۔ میں جس ڈبے میں تھا اس میں تمام پڑھے لکھے لوگ تھے اور انگریزی میں باتیں کرتے تھے۔ شیشہ بند ڈبے میں ہم باہر کے شور سے محفوظ تھے۔ مگر اندر کے مسافر اتنے زور زور سے باتیں کر رہے تھے کہ دوسرے کیبن کی آواز بھی صاف سنائی دیتی تھی۔ مثلاً ایک بار یہ آواز میرے کان میں آئی:
You are a senior officer
(آپ ایک سینئر افسر ہیں)، ایک مرد اور عورت اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ تھے۔ ان کے خوش پوش بچے مسلسل شور برپا کئے ہوئے تھے اور اپنے کیبن سے نکل کر باہر دوڑتے تھے مگر ان کے ماں باپ کو میں نے کبھی منع کرتے نہیں سنا۔ ’’ ایئر کنڈیشنڈ کار‘‘ میں ہم مشینی شور سے محفوظ تھے۔ مگر انسانی شور کا یہ حال تھا کہ میرے لئے پڑھنا لکھنا مشکل ہوگیا۔
مجھے ۳۰ اگست ۱۹۸۲ کا واقعہ یاد آیا جب کہ میں مالٹا سے پیرس جا رہا تھا۔ ہوائی جہاز میں مجھ سے ملی ہوئی سیٹ پر دو فرانسیسی بچے بیٹھے ہوئے تھے جو مالٹا میں چھٹیاں گزار کر اپنے وطن فرانس واپس جا رہے تھے۔ یہ بچے جو بھائی بہن تھے اکثر آپس میں باتیں کرتے تھے مگر قریب ہونے کے باوجود ایک بار بھی ان کا کوئی جملہ مجھے سنائی نہیں دیا۔ میں نے جب بھی ان سے کوئی سوال کیا تو انھوں نے نہایت آہستگی اور تہذیب کے ساتھ میرے سوال کا جواب دیا۔
جس ملک میں اونچے پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال ہو اس کے بارے میں کس طرح کوئی اچھی امید قائم کی جاسکتی ہے۔
بھوپال میں پہلا پروگرام۱۷؍ نومبر کو ۱ بجے دن میں ہوا۔ یہ پروگرام صدر منزل میں بھوپال یونیورسٹی کے تحت تھا۔ جناب عزیز قریشی (چیئر مین مدھیہ پردیش اسٹیٹ فشریز ڈویلپمنٹ کارپوریشن) اور ڈاکٹر آرسی شکلا (وائس چانسلر بھوپال یونی ورسٹی) بحیثیت صدر اور چیف گیسٹ ڈائس پر موجود تھے۔ ڈاکٹر مسرار فہ مکینکل ڈیپارٹمنٹ آف عربک بھوپال یونیورسٹی) نے اجتماع کی کارروائی چلائی۔ مقررہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues