دوبارہ زمین پر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۹
دوبارہ زمین پر
۲۸ فروری ۱۹۸۲ کو مجھ پر ایک انوکھا تجربہ گزرا۔ مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے میں جسم سے جدا ہو کر دوسری دنیا میں چلا گیا تھا۔ پھر دوبارہ میں زمین پر واپس آیا۔ یہ تجربہ ایسا انوکھا تجربہ تھا جس کو انسانی لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم اس کی ظاہری کہانی کو کسی حد تک ضرور بیان کیا جا سکتا ہے۔
نئی دہلی (کرزن روڈ) پر راقم الحروف کا ماہانہ درسِ قرآن ہوتا ہے۔ اس کا سلسلہ اولا ۲۹ جون ۱۹۸۰ کو شروع ہوا تھا۔ یہ درس پابندی کے ساتھ جاری ہے اور اس کا وقت ہر مہینے کے آخری اتوار کو بعد نمازِ مغرب ہے۔
۲۸ فروری کو اسی قسم کے درس کا دن تھا۔ میں حسب معمول اپنے گھر سے کرزن روڈ گیا۔ اور مغرب بعد قرآن کا درس دیا۔ یہ درس وہی تھا جو بعد کو تفصیلی صورت میں تحریر ہوکر احیاء اسلام نامی کتاب میں " احیاء اسلام “ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس روز دہلی میں بارش ہوئی تھی۔ سڑکوں پر جگہ جگہ پانی تھا۔ رات کے تقریباً ۹ بجے تھے۔ میں حسب معمول درسِ قرآن سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں۔ ساتھیوں نے روکا کہ آج رات کو یہیں رہ جائیں۔ اور صبح کو یہاں سے جائیں۔ آپ کے گھر پر ٹیلی فون سے مطلع کر دیا جائے گا۔ مگر میں بارش کی پروا کئے بغیر ان سے معذرت کر کے نکل پڑا۔ سڑک پر پہنچا تو کوئی سواری دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ میں آگے چلتا رہا کہ جہاں کوئی سواری ملے گی اس کو پکڑ لوں گا۔ مگر اتفاق سے کوئی سواری دکھائی نہ دی۔ اتوار اور بارش کی وجہ سے سڑکوں پر اس وقت سناٹا چھایا ہوا تھا۔
میں اس وقت تنہا تھا۔ کرزن روڈ سے گزر کر میں کناٹ پلیس کے علاقہ میں آیا۔ اس کے بعد پیدل چلتے ہوئے اس سڑک پر پہنچا جس کو منٹو روڈ کہا جاتا ہے۔ میں ہلکی بارش میں بھیگتا ہوا برابر چل رہا تھا۔ اس وقت طبیعت میں نامعلوم طور پر ایک عجیب سرور تھا۔ یہ سفر میرے لئے ایک قسم کا روحانی سفر بن گیا جس نے موسم کی نامساعدت کو میرے لئے غیر اہم بنا دیا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ میں خدا کے فیضان میں نہاتا ہوا آگے بڑھ رہا ہوں۔ تنہائی کے باوجود مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ کوئی عظیم قوت میرے ساتھ ہے۔ کوئی اپنی خصوصی رحمتوں کے ساتھ مجھے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues