دوبارہ زمین پر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰
ہے ۔ مجھے اس وقت نہ تھکان کا احساس تھا اور نہ بھیگنے کا۔ مجھ کو نہ رات کا سناٹا ستا رہاتھا اور نہ تنہا پیدل سفر کرنا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مجھے نامعلوم طور پر کسی خاص منزل کی طرف کھینچے چلا جار ہا ہے ۔
میں چلتے چلتے ریلوے پل اور اجمیری گیٹ کے درمیان پہنچا۔ یہاں میرے بائیں طرف بجلی کا ایک کھمبا تھا۔ اس کھمبے کے نچلے حصہ میں بائیں طرف بجلی کے تاروں کا وہ مشتر کہ خانہ تھا جس کو جنکشن باکس (Junction Box) کہا جاتا ہے ۔ جنکشن باکس کا ڈھکن غائب تھا اور وہ بالکل کھلا ہوا تھا۔ اگر چہ سڑک پوری خالی تھی۔ مگر میں اپنی عادت کے مطابق بالکل کنارے پر چل رہا تھا۔ بجلی کے کھمبے کے پاس پہنچ کر اس کے بائیں طرف مجھے پانی نظر آیا۔ میں نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کیونکہ بارش کی وجہ سے سڑک پر جگہ جگہ اس قسم کا معمولی پانی تھا اور میں برابر ان سے گزر رہا تھا۔ میں نے سمجھا کہ یہ ایک دو انچ سے زیادہ گہرا نہیں ہو گا اور تیزی سے چلتے ہوئے اس پانی پر اپنا پاؤں رکھ دیا۔ مگر وہ کمر برابر گہرا گڑھا تھا۔ اچانک میں اس میں گر پڑا۔ اب میرا جسم گڑھے کے اندر تھا اور میرا دایاں ہاتھ جنکشن باکس میں۔
فی الفور بجلی نے مجھے پکڑ لیا۔ یہ پکڑ ہتھیلی اور کلائی کے درمیان تھی۔ ایک لمحہ میں میرا سارا جسم بالکل بے حرکت ہو گیا۔ میرا دایاں ہاتھ بجلی کے تاروں کے گچھے پر تھا۔ اور بقیہ جسم بے حس وحرکت ہو کر پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ گویا کہ میں بجلی کے سمندر میں نہار ہا تھا۔ ایسی حالت میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی یا تو فوراً مر جاتا ہے یا گھبراہٹ میں کچھ چیخیں نکال کر بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ مگر بجلی کے حادثات کی تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہے کہ جس وقت مجھے بجلی پکڑے ہوئے تھی اس وقت بھی میں ہوش میں تھا۔ بظاہر اگر چہ میں مر چکا تھا مگر میرا ذہن اب بھی پوری طرح حاضر تھا۔ میں تمام باتوں سے اسی طرح باخبر تھا جس طرح میں عام حالت میں باخبر رہتا۔ شاید یہ کوئی مطلوب منزل تھی۔ شاید میں وہیں پہنچ گیا تھا جس کی طرف جھکا کر مجھ کو لایا جا رہا تھا۔
یہ حالت میرے خیال کے مطابق پانچ منٹ سے زیادہ دیر تک جاری رہی۔ یہ ذہن اور جسم کی علیحدگی کا ایک لمحہ تھا۔ میں اپنے جسم سے اوپر اٹھ کر واقعات کو دیکھ رہا تھا۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ کرنٹ کا ایک بے حد تیز رفتار دھارا ہے جو میرے جسم کے اندر موجیں مار رہا ہے۔ میرے بھائی، بجلی کے انجینئر ہیں۔ ان کی بتائی ہوئی یہ بات مجھے یاد تھی کہ اگر میں اپنے دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues