Al-Risala · October 1983 · page 12

دوبارہ زمین پر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲

سے باہر نکالا قریب ہی زمین پر بیٹھ گیا ۔ میرا ہاتھ کلائی سے لے کر ہتھیلی تک گہرا جل چکا تھا ۔ مگر میرا دل حیرت انگیز طور پر اس وقت بھی بے حد پرسکون تھا ۔

اتنے میں کچھ مقامی غیر مسلم صاحبان وہاں آ گئے ۔ انہوں نے مجھ کو اٹھایا اور سہارا دے کر مجھ کو قریب کے مکان میں لے گئے ۔ اس وقت حال یہ تھا کہ میرے تمام کپڑے بھیگے ہوئے تھے ۔ سر سے پاؤں تک میں پانی سے تر تھا اور میرے جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔ اب میں پیدل چل کر گھر پہنچنے کے قابل نہ تھا ۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ میرے گھر پر ٹیلی فون کر کے مطلع کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہم میں سے کسی کے پاس ٹیلی فون نہیں ہے ۔ پھر میں نے کہا کہ میرے لئے کوئی سواری بلا دیں ۔ وہ لوگ اس کے لئے آمادہ ہو گئے اور ڈھونڈھ کر کہیں سے ایک سائیکل رکشالے آئے ۔ میں اس پر تنہا سوار ہو کر اپنے گھر آ گیا ۔ وہ لوگ رکشہ کا کرایہ دینے لگے ۔ میں نے منع کیا کہ اس کی ضرورت نہیں ، میں خود ادا کر دوں گا ۔

میں گھر پہنچا تو میرے سارے کپڑے پانی میں تر تھے اور مجھے کپکپی ہورہی تھی ۔ فوری طور پر کپڑا بدلنا ضروری تھا مگر الیکٹرک برن اور فریکچر کی وجہ سے میرا دایاں ہاتھ سیدھا لٹک رہا تھا اور میں اس کو اٹھانے پر قادر نہ تھا ۔ چنانچہ اوپر کا کوٹ تو کسی طرح سالم اتار لیا اور بقیہ کپڑے قینچی سے کاٹ کر میرے جسم سے الگ کئے گئے ۔ ایک بنیان اور ایک سوئٹر کٹا ہوا اب بھی میری الماری میں بطور یادگار موجود ہے ۔

میرے لڑکے ثانی اثنین خان نے ٹیلی فون کر کے جناب اطہر صدیقی صاحب اور جناب محمد شمیم صاحب کو صورت حال کی خبر دی ۔ وہ لوگ فوراً آگئے ۔ اور رات کو تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مجھے ہمدرد نرسنگ ہوم ( نئی دہلی ) پہنچا دیا گیا ۔ وہاں اگرچہ مجھے ایک خصوصی کمرہ نمبر دیا گیا تھا ، تاہم نرسنگ ہوم کے صدر حکیم عبدالحمید صاحب نے نرسنگ ہوم کے انتظامی انچارج سے یہ کہہ دیا تھا کہ ” مولانا جب تک چاہیں یہاں رہیں ، ان سے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی ۔ “ یہ بات انتظامی افسر نے آخری دن اس وقت بتائی جبکہ ہمارا آدمی حساب دینے کے لئے ان کے دفتر میں گیا ۔

یہ ایک ایسا تجربہ تھا جو نہ کبھی میرے ساتھ گزرا اور نہ کسی اور کے بارہ میں اب تک سننے یا پڑھنے میں آیا ۔ بجلی کی مکمل گرفت میں آنے کے باوجود زندہ رہنا ۔ جسم اور روح کا الگ ہو کر پھر مل جانا ، حادثہ کے دوران جسم کے مکمل طور پر بے حرکت ہو جانے کے باوجود ذہن کا مکمل طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page